نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے خواتین ریزرویشن بل کو موجودہ وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کی اپیل کی ہے۔ حکومت نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کے تحت پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے سیاسی و عوامی سطح پر وسیع حمایت حاصل کرنے کی مہم تیز کر دی ہے، جسے خواتین کے بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔ منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے خواتین کو پالیسی سازی کے عمل میں زیادہ نمائندگی ملے گی، جو جمہوریت کو مزید مضبوط بنائے گی۔
ادھر مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی اس بل کی حمایت کرتے ہوئے خواتین کے نام ایک کھلا خط جاری کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ملک بھر کی خواتین 2029 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات سے ریزرویشن کے نفاذ کے فیصلے کا خیرمقدم کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس دیرینہ مطالبے کو جلد پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسے ملک کی خواتین کے نام ایک اہم تحفہ قرار دیا۔
اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی خواتین کے نام اپنے پیغام میں اس بل کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں برابر کا شریک بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ وزیر اعظم نے 14 اپریل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے آئینی نظریات کو ملک کی جمہوری بنیاد قرار دیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کا آئندہ اجلاس 16 اپریل سے دوبارہ شروع ہوگا، جس میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ سے متعلق ایک اہم آئینی ترمیم پر غور کیا جائے گا۔ اس بل کے ذریعے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک مخصوص فیصد نشستیں محفوظ کرنے کی تجویز ہے، تاکہ ان کی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو یہ بھارتی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف خواتین کی سیاسی شمولیت میں اضافہ ہوگا بلکہ پالیسی سازی کے عمل میں بھی ان کی آواز مضبوط ہوگی۔ مجموعی طور پر حکومت اور اس کے اعلیٰ رہنماؤں کی جانب سے اس بل کے لیے مسلسل حمایت ظاہر کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ آنے والے دنوں میں خواتین ریزرویشن کا خواب حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں اس اہم بل پر فیصلہ کن بحث متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
طلبہ کی تحریک کے درمیان انتظامیہ نے جاری کیا حکم، 15 مئی 2027 تک طلبہ…
36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز،…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی…
جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ’اورا انڈیا ٹور 2026‘ کے دوران 70 ہزار سے زائد…
اتر پردیش اے ٹی ایس نے انکت شنکھوار کو گرفتار کیا، لیپ ٹاپ سے تقریباً…
اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…