علی گڑھ: شاہی چیف مفتی مولانا چودھری افراہیم حسین نے زکوٰۃ فنڈ اور وقف سے متعلق عطیات کے بڑے پیمانے پر مبینہ غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے مسلم فلاحی اداروں کے انتظام میں زیادہ شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ اور وقف کی آمدنی کا فائدہ غریبوں، یتیموں، مساکین اور مستحق افراد تک مکمل طور پر نہیں پہنچ رہا، اس لیے اس معاملے میں سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔
زکوٰۃ فنڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا دعویٰ
زکوٰۃ میں مبینہ خرد برد سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا چودھری افراہیم حسین نے کہا کہ زکوٰۃ کی رقم میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مسلمانوں کے مختلف مذہبی اداروں، جیسے مساجد، مدارس اور درگاہوں، بشمول حاجی علی درگاہ، اجمیر شریف درگاہ اور دیگر بڑی مساجد میں زکوٰۃ کی رقم کے مبینہ غلط استعمال کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کی زکوٰۃ، جو غریبوں، یتیموں، مساکین، ضرورت مندوں اور مستحق افراد کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونی چاہیے، اس کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بااثر اور مالدار افراد نے ان وسائل کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہوئے ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں اپنے نام کر لی ہیں۔
وقف کی آمدنی میں بھی بے ضابطگیوں کا الزام
مولانا حسین نے کہا کہ مساجد اور درگاہوں میں زکوٰۃ کی رقم کے مبینہ غلط استعمال کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور مستحق طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے، کیونکہ جس امداد کا وہ حق رکھتے ہیں وہ ان تک نہیں پہنچ رہی۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرے کا ایک بڑا طبقہ پسماندگی، کمزوری اور بنیادی ضروریات کی کمی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وقف جائیدادوں سے حاصل ہونے والی سالانہ تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی میں بھی بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ رقم شفاف طریقے سے خرچ کی جائے تو اس سے غریبوں، یتیموں اور ضرورت مند افراد کی مؤثر مدد کی جا سکتی ہے اور مسلم معاشرے کے کمزور طبقات کی ترقی میں نمایاں کردار ادا ہو سکتا ہے۔
ایس آئی ٹی تحقیقات کا مطالبہ
مولانا چودھری افراہیم حسین نے کہا کہ جس طرح شری رام مندر سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگی کے معاملے میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی، ایف آئی آر درج کرائی اور فوری کارروائی کی، اسی طرح مسلم معاشرے میں زکوٰۃ اور وقف سے متعلق اس بڑے مالیاتی معاملے کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی رقم ہے، جو بنیادی طور پر غریب، یتیم اور مستحق افراد کی فلاح کے لیے مختص ہوتی ہے، اس لیے اس معاملے میں بھی شفاف، غیر جانبدارانہ تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…