قومی

’Meaning of ‘Inquilab Zindabad: انقلاب زندہ باد آج بھی کیوں گونجتا ہے؟ سڑکوں پر کیا ہو رہا ہے اور لوگ آخر کہنا کیا چاہتے ہیں؟

بھارت کی سڑکوں پر جب بھی کوئی بڑا احتجاج ہوتا ہے، ایک نعرہ بار بار سنائی دیتا ہے، ’’انقلاب زندہ باد‘‘۔ یہ صرف دو الفاظ نہیں ہیں، بلکہ احتجاج، اختلاف رائے اور تبدیلی کی خواہش کی علامت بن چکے ہیں۔ چاہے معاملہ کسانوں کا ہو، طلبہ کا ہو، ملازمتوں کا ہو، انتخابی عمل کا ہو یا پھر شہری حقوق کا، یہ نعرہ ہر دور میں نئی نسل کے ساتھ چلتا دکھائی دیتا ہے۔ حال ہی میں ہونے والے مختلف مظاہروں کے درمیان ایک ایسا واقعہ سامنے آیا جس نے احتجاج اور اقتدار کے تعلق کو ایک الگ انداز میں سمجھایا۔ پولیس حراست میں لے جائے جانے کے بعد ایک نوجوان خاتون مظاہرین نے بس سے اترنے سے پہلے خاتون کانسٹیبل سے کہا کہ وہ اپنا نیم ٹیگ لگائے۔ کانسٹیبل نے جیب سے ٹیگ نکال کر اپنی وردی پر لگا لیا۔ یہ چھوٹا سا منظر ایک بڑے سوال کو سامنے لاتا ہے۔ اگر شہریوں کو اپنی شناخت بتانی پڑتی ہے اور اپنے ہر کام کا جواب دینا پڑتا ہے، تو کیا اقتدار اور اختیارات رکھنے والوں کو بھی جواب دہ نہیں ہونا چاہیے؟ یہی سوال آج ملک کی کئی تحریکوں کی بنیاد بنتا جا رہا ہے۔

ایک نعرہ بھیڑ کو آواز کیسے دیتا ہے؟

کسی مظاہرے میں موجود لوگوں کو دیکھیں تو ابتدا میں وہ الگ الگ پس منظر سے آئے ہوئے عام لوگ ہوتے ہیں۔ کوئی طالب علم ہوتا ہے، کوئی کسان، کوئی بے روزگار نوجوان اور کوئی سماجی کارکن۔ لیکن جیسے ہی بھیڑ میں سے کوئی ’’انقلاب‘‘ کا نعرہ لگاتا ہے اور جواب میں ’’زندہ باد‘‘ سنائی دیتا ہے، وہاں موجود لوگ خود کو ایک مشترکہ آواز کا حصہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایک ایسی شکایت جو پہلے کسی شخص کی ذاتی پریشانی تھی، وہ عوامی مسئلہ بن جاتی ہے۔ لوگوں کو احساس ہونے لگتا ہے کہ ان کا مسئلہ اکیلا نہیں ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ تقریباً ایک صدی پرانا یہ نعرہ آج بھی نئی نسلوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ نعرہ صرف کسی مطالبے کو پیش کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ یہ یہ بھی کہتا ہے کہ اب ناانصافی کو خاموشی سے برداشت کرنے کا دور ختم ہونا چاہیے۔

بھگت سنگھ نے یہ نعرہ نہیں بنایا تھا

بہت سے لوگ مانتے ہیں کہ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ بھگت سنگھ نے دیا تھا، لیکن تاریخی اعتبار سے یہ پوری طرح درست نہیں ہے۔ خود بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے تسلیم کیا تھا کہ وہ اس نعرے کے بانی نہیں تھے۔ تاہم، یہ بھی سچ ہے کہ ان کی سرگرمیوں، مقدمات اور خیالات نے اس نعرے کو قومی شناخت دلانے میں سب سے بڑا کردار ادا کیا۔ دسمبر 1928 میں لاہور میں سانڈرس کے قتل کے بعد جاری کیے گئے نوٹس میں یہ نعرہ دکھائی دیا۔ اس کے چند ماہ بعد 8 اپریل 1929 کو دہلی کی مرکزی اسمبلی میں پھینکے گئے بموں اور تقسیم کیے گئے پمفلٹس کے ساتھ بھی یہ نعرہ جڑا رہا۔ اس واقعے نے لوگوں کی توجہ تو کھینچی، لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ آخر ’’انقلاب‘‘ کا مطلب کیا ہے؟

بھگت سنگھ کی نظر میں انقلاب کیا تھا؟

6 جون 1929 کو عدالت میں دیے گئے مشترکہ بیان میں بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے واضح کیا تھا کہ انقلاب کا مطلب صرف خون خرابہ یا پُرتشدد کارروائی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب صرف بم اور پستول کا نام نہیں ہے۔ ان کی مخالفت اس سماجی نظام سے تھی جس میں اناج اگانے والا کسان بھوکا رہ جاتا ہے، کپڑا بنانے والا بنکر خود اچھے کپڑے نہیں پہن پاتا اور شاندار عمارتیں بنانے والا مزدور غربت میں زندگی گزارتا ہے۔ ان کا سوال تھا کہ جو لوگ معاشرے کو چلاتے ہیں، پیداوار کرتے ہیں اور دولت بناتے ہیں، آخر انہیں یکساں عزت اور حقوق کیوں نہیں ملتے؟ اس لیے انقلاب کا تصور صرف انگریزی حکومت کو ہٹانے تک محدود نہیں تھا۔ یہ معاشرے کی وسیع تر تشکیل نو اور منصفانہ نظام کا مطالبہ بھی تھا۔

تبدیلی کے خوف کو ختم کرنے کی کوشش

بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت نے بعد میں ایک اور اہم بات کہی تھی۔ ان کے مطابق لوگ وقت کے ساتھ کسی بھی نظام کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ وہ تبدیلی سے ڈرنے لگتے ہیں۔ جب یہ خوف گہرا ہو جاتا ہے تو ناانصافی بھی معمول کی بات لگنے لگتی ہے۔ لوگ سوچنے لگتے ہیں کہ جو کچھ ہے، وہی ہمیشہ رہے گا۔ اسی ذہنیت کو توڑنا انقلابی سوچ کا بنیادی مقصد تھا۔ انہوں نے انقلاب کے جذبے کو ’’بہتر تبدیلی کی خواہش‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ کوئی بھی نظام اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ اس میں اصلاح کی ضرورت نہ پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ وہ کسی پُرتشدد انقلاب کی بات کر رہے ہوں۔ زیادہ تر معاملات میں وہ تبدیلی، جواب دہی اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں۔

عدالتوں سے نکل کر عوام تک پہنچا نعرہ

برطانوی حکومت کے دور میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کے مقدمات صرف قانونی لڑائی نہیں تھے۔ وہ اپنے مقدمات کو سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ عدالتوں میں نعرے لگائے جاتے، گیت گائے جاتے اور اپنی بات عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی۔ سزا دینے کا اختیار عدالت کے پاس تھا، لیکن اپنی جدوجہد کا مطلب بتانے کا حق وہ اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ جب انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی یا ان کے ساتھ سخت برتاؤ کیا گیا، تو ان کی آواز مزید لوگوں تک پہنچ گئی۔ انقلابی سکھ دیو نے جیل سے لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ جو آواز کبھی بہت چھوٹی تھی، وہ اب اتنی بڑی ہو چکی ہے کہ بچے بھی ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کہہ رہے ہیں۔

ہر نسل نے اپنے معنی اخذ کیے

وقت کے ساتھ اس نعرے کو مختلف تحریکوں میں استعمال کیا گیا۔ ہر نسل نے اسے اپنے تجربات کے مطابق سمجھا۔ ایک مزدور جب بقایا اجرت کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ نعرہ لگاتا ہے تو اس کا مطلب الگ ہوتا ہے۔ کوئی کسان اپنی فصل کی مناسب قیمت مانگتے ہوئے اسے بلند کرتا ہے تو اس کا پس منظر مختلف ہوتا ہے۔ کوئی طالب علم امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف جدوجہد کرتا ہے تو اس کے لیے یہ آواز انصاف کا مطالبہ بن جاتی ہے۔ اس کے باوجود ان تمام حالات میں ایک بات مشترک ہوتی ہے۔ لوگ خود کو بے بس ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

اجتماعی آواز کی طاقت

مظاہرے صرف مطالبات پیش کرنے کا پلیٹ فارم نہیں ہوتے۔ وہ لوگوں کو ذہنی طاقت بھی دیتے ہیں۔ جو شخص اکیلے بولنے میں ہچکچاتا ہے، وہ بھیڑ کے درمیان اپنی بات رکھ سکتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ اس جیسے دوسرے لوگ بھی موجود ہیں۔ خوف اکثر انسان کو دوسروں سے الگ تھلگ کر دیتا ہے۔ لیکن جب سیکڑوں یا ہزاروں لوگ ایک ساتھ آواز اٹھاتے ہیں تو یہ تنہائی ختم ہونے لگتی ہے۔ چاہے اس وقت کوئی مطالبہ پورا نہ ہوا ہو، لیکن لوگوں کے اندر یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ جدوجہد جاری رکھی جا سکتی ہے۔

نئے دور کی تحریکیں اور نئے سوالات

2020-21 کی کسان تحریک اور 2024 میں شروع ہونے والی شمبھو بارڈر کی تحریک نے ایک بار پھر اجتماعی مزاحمت کی اس روایت کو قومی بحث کا موضوع بنایا۔ ان تحریکوں کا مرکز زراعت اور روزگار کے سوالات تھے، لیکن ان کے اندر ایک بڑا سوال بھی موجود تھا۔ کیا حکومتیں متاثرہ لوگوں کی مناسب شمولیت اور بات چیت کے بغیر فیصلے لے سکتی ہیں؟ اسی طرح بھرتی اور داخلہ امتحانات کے حوالے سے ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے نوجوانوں کی تشویش کو سامنے رکھا۔ برسوں کی محنت، خاندان کی بچت اور بہتر مستقبل کی امید ایک امتحانی نظام پر ٹکی ہوتی ہے۔ اگر پرچہ لیک ہو جائے، امتحان منسوخ ہو جائے یا بھرتی کا عمل برسوں تک رکا رہے، تو صرف طلبہ کا وقت ہی نہیں بلکہ ان کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔

انتخابی عمل پر بڑھتی ہوئی بحث

حالیہ دنوں میں ووٹر فہرستوں کو لے کر بھی تنازع بڑھا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ کچھ اہل ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے جا رہے ہیں، جس سے انتخابی غیر جانب داری متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ عمل صرف نقل شدہ یا نااہل اندراجات کو ہٹانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس بحث نے ایک بڑے سوال کو جنم دیا ہے۔ کیا شہریوں کو یہ اعتماد ہے کہ ان کی سیاسی آواز محفوظ ہے اور انتخابی نظام پوری طرح غیر جانب دارانہ انداز میں کام کر رہا ہے؟

خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت

آج کی تحریکوں میں خواتین کی موجودگی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ صرف مظاہروں میں شامل نہیں ہو رہی ہیں، بلکہ رپورٹنگ، سوشل میڈیا، یوٹیوب اور ابلاغ کے دیگر ذرائع کے ذریعے بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی شمولیت تحریکوں کو نئے تجربات، نئی حساسیت اور تخلیقی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید احتجاجی مظاہرے صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی پہلو بھی اختیار کر رہے ہیں۔

آئین اور ترنگا کیوں بن رہے ہیں علامت؟

آج کل کئی تحریکوں میں مظاہرین ہاتھوں میں آئین اور قومی پرچم لیے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے پیغام واضح ہوتا ہے۔ لوگ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے خلاف نہیں بلکہ ملک میں اپنے حقوق اور آئینی وعدوں کے حق میں کھڑے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ شہری ہونے کے ناطے انہیں سوال پوچھنے، جواب طلب کرنے اور اقتدار کو جواب دہ بنانے کا حق حاصل ہے۔

آخر سڑکوں پر کیا ہو رہا ہے؟

ملک بھر میں دکھائی دینے والی مختلف تحریکیں دراصل ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہیں۔ ایک طالب علم منصفانہ امتحان کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایک کسان باعزت آمدنی چاہتا ہے۔ ایک ووٹر اپنے حق رائے دہی کو محفوظ دیکھنا چاہتا ہے۔ ایک خاتون یکساں عزت اور تحفظ کی بات کر رہی ہے۔ ایک صحافی واقعات کو آزادانہ طور پر قلم بند کرنے کا حق چاہتا ہے۔ ان سب کے مطالبات الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں ایک مشترکہ جذبہ موجود ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ جن اداروں کے پاس طاقت ہے، وہ عوام کے تئیں جواب دہ رہیں۔ ترنگا انہیں ان کی شہری شناخت یاد دلاتا ہے۔ آئین انہیں ان کے حقوق یاد دلاتا ہے۔ اور ’’انقلاب زندہ باد‘‘ انہیں جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہائیوں پرانا یہ نعرہ آج بھی زندہ ہے۔ کیونکہ ہر نئی نسل اس میں اپنے دور کے سوالات، امیدوں اور تبدیلی کی خواہش کو دیکھتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

یہ ہریش جین کے ذریعہ لکھا گیا مضمون ہے۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Acid Attack: اسپتال سے گھر لوٹ رہی تھیں خاتون ڈاکٹر، سرپھرے نے پھینکا تیزاب؛ پولیس بھی حیران، تحقیقات میں چونکا دینے والے انکشافات

بہار کے بیگوسرائے میں اسپتال سے گھر واپس جا رہی خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے…

19 minutes ago

From Teesta to Trishuli: تیستا سے تریشولی تک: ہمالیائی پن بجلی کے لیے موسمیاتی حقائق کا جائزہ کیوں ضروری ہے؟

صرف بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت اور منصوبوں کے اعداد و شمار کافی…

39 minutes ago

Bihar Boat Accident: وزیراعظم مودی نے راگھوپور کشتی حادثے پر دکھ کا کیا اظہار، کہا، دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں

بہار کے ضلع ویشالی کے راگھوپور میں کشتی حادثے نے کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین…

1 hour ago

Meerut Blue Drum Murder Case: میرٹھ کے نیلے ڈرم قتل معاملے میں عدالت کا بڑا فیصلہ، ساحل اور مسکان کو پھانسی کی سزا

میرٹھ کے مشہور سوربھ راجپوت قتل معاملے میں عدالت نے مسکان رستوگی اور اس کے…

2 hours ago