چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کے دوران این ایس یو آئی کارکنوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کا معاملہ اب سیاسی طور پر مزید گرم ہو گیا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے متاثرہ طلبہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرکے ان کی بات ملک کے سامنے رکھی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ طلبہ صرف اپنی تنظیم کی نہیں بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں کی آواز ہیں۔
راہل گاندھی کی اپیل
راہل گاندھی نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے ہر واقعے کی ویڈیوز اور دیگر ثبوت محفوظ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ملک کے طلبہ کی طاقت کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ناانصافی کرنے والوں کو مستقبل میں جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
سمرتھ نے حراست اور مارپیٹ کی کہانی سنائی
پریس کانفرنس میں موجود این ایس یو آئی کارکن سمرتھ نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کے ارکان 4 اکتوبر سے پُرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے مطابق، 5 اکتوبر کو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا اور بعد میں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچایا گیا۔ سمرتھ کا الزام ہے کہ وہاں وہاب سنگھ تومر نامی پولیس اہلکار سمیت تقریباً 20 پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بری طرح مارپیٹ کی۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں انہیں پچھلے راستے سے باہر نکالا گیا اور دہلی کینٹ لے جاتے وقت کانسٹیبل انکت کاسانا مسلسل ان کی پٹائی کرتا رہا۔ سمرتھ نے یہ الزام بھی لگایا کہ سفر کے دوران ان کے ساتھی دھرمیندر کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ جب دھرمیندر نے الٹی آنے کی بات کہی تو پولیس اہلکاروں نے انہیں بیگ میں ہی الٹی کرنے کو کہا۔
راہل نے خاتون مظاہرہ کار کو ’شیرنی‘ قرار دیا
پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے ایک خاتون مظاہرہ کار کا تعارف کراتے ہوئے انہیں ’شیرنی‘ کہا۔ راہل کے مطابق، مبینہ مارپیٹ اور دباؤ کے باوجود وہ خوف زدہ نہیں ہوئیں اور ان کے دل میں کسی کے لیے نفرت بھی نہیں ہے۔ راہل نے کہا کہ مشکل حالات میں بھی خاتون مظاہرہ کار نے جس طرح ہمت اور تحمل کا مظاہرہ کیا، وہ دوسرے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔
خاتون مظاہرہ کار نے لگائے سنگین الزامات
خاتون مظاہرہ کار نے بتایا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے انہیں اور دیگر کارکنوں کو تین بسوں میں بٹھا کر حراست میں لیا تھا۔ ان کے مطابق، جس بس میں وہ موجود تھیں، اس میں دو لڑکیوں کے علاوہ این ایس یو آئی کے تقریباً 20 سے 30 کارکن بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بس میں چنچل یادو نامی ایک خاتون کانسٹیبل بھی تعینات تھیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے کے بعد کچھ کارکنوں نے دوبارہ احتجاج کرنے کی کوشش کی۔ احتجاج جاری رکھنے کے لیے چند افراد بس سے اتر کر اسے روکنے کی کوشش کرنے لگے اور بس کے سامنے بیٹھ گئے۔ ان کا الزام ہے کہ اسی دوران خاتون کانسٹیبل چنچل یادو نے ان کا گلا پکڑ کر کھینچا اور زور سے دھکا دیا، جس سے وہ سیٹ پر گر گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد ان کے چہرے اور کان کے قریب ناخنوں سے خراشیں لگائی گئیں۔ خاتون کے مطابق، احتجاج کرنے پر کانسٹیبل نے انہیں تھپڑ مارتے ہوئے کہا، ’’لو، ایک اور تھپڑ کھا لو۔‘‘
’اپنے لیڈر کو بلا لو‘
این ایس یو آئی کے ایک اور کارکن دھرمیندر کمار نے بھی پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے کہا کہ بولو، دہلی پولیس تمہارے پاپا ہیں۔ دھرمیندر نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ بھی مارپیٹ کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انکت کاسانا نامی ایک پولیس اہلکار نے انہیں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اپنے لیڈر کو بلا لو، تمہیں بچانے کوئی نہیں آئے گا۔ دھرمیندر نے واضح کیا کہ وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور ناانصافی کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔
بانسری پر گونجا ’ویشنو جن تو‘
پریس کانفرنس کے دوران موجود مظاہرین میں سے ایک شخص نے بانسری پر مہاتما گاندھی کا پسندیدہ بھجن ’ویشنو جن تو‘ بجایا۔ اس موقع پر انہوں نے پیغام دیا کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ محبت اور عدم تشدد سے دیا جانا چاہیے۔
نوجوانوں کی آواز دبانا آسان نہیں: راہل گاندھی
پریس کانفرنس کے اختتام پر راہل گاندھی نے ایک بار پھر طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ نوجوانوں کی باتیں دراصل ہندوستان کی آواز ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ پولیس کارروائی سے متعلق تمام ثبوت محفوظ رکھیں۔ راہل نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کی سوچ اور آواز ایک ہے، انہیں ڈرا کر یا دبا کر خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ ان کا ماننا ہے کہ جمہوریت میں نوجوانوں کی شمولیت سب سے بڑی طاقت ہے اور اسے کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جانی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انقلاب زندہ باد کا اصل مطلب کیا ہے؟ بھگت سنگھ کے خیالات سے نکلا یہ…
بہار کے ضلع ویشالی کے راگھوپور میں کشتی حادثے نے کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین…
میرٹھ کے مشہور سوربھ راجپوت قتل معاملے میں عدالت نے مسکان رستوگی اور اس کے…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان پر کہ گجرات میں بیلٹ پیپر سے…
اتر پردیش میں قانون ساز کونسل کے انتخابات اسمبلی الیکشن سے پہلے دونوں جماعتوں کے…
وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لداخ میں تقریباً 3,350…