قومی

Bihar Boat Accident: وزیراعظم مودی نے راگھوپور کشتی حادثے پر دکھ کا کیا اظہار، کہا، دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں

بہار کے ضلع ویشالی کے راگھوپور میں پیش آنے والے کشتی حادثے نے کئی خاندانوں کو ایسا زخم دیا ہے جسے بھرنا آسان نہیں ہوگا۔ رام پور شیام چند گاؤں کے قریب ندی میں پیش آنے والے اس حادثے میں اب تک 13 افراد کی موت کی اطلاع ہے۔ مرنے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ جس گاؤں میں کچھ وقت پہلے تک بچوں کی ہنسی اور چہل پہل سنائی دیتی تھی، وہاں اب ہر طرف ماتم چھایا ہوا ہے۔ کئی گھروں میں لوگ اپنے بچوں کو یاد کرکے رو رہے ہیں۔ کسی نے اپنا بیٹا کھویا ہے تو کسی نے اپنی بیٹی۔ اہل خانہ کے لیے اس غم کو لفظوں میں بیان کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کشتی میں 20 سے زیادہ بچے اور دیگر افراد سوار تھے۔ سبھی بھوج کھانے کے لیے جا رہے تھے۔ اسی دوران کشتی خراب ہو گئی اور اس میں سوار لوگ ندی میں گر کر ڈوبنے لگے۔ اچانک پیش آئے اس حادثے سے موقع پر افراتفری مچ گئی۔ آس پاس موجود لوگوں نے مدد کی کوشش کی، جس کے بعد مقامی دیہاتیوں اور امدادی ٹیموں کی مدد سے ندی میں ڈوبنے والے افراد کی تلاش شروع کی گئی۔ حادثے کے بعد سے ہی راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔ بدھ کے روز ایک بار پھر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاکہ لاپتہ افراد کا پتہ لگایا جا سکے۔ اب تک 13 لاشیں نکالے جانے کی اطلاع ہے۔ بڑی تعداد میں بچوں کی موت سے پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو معمول کے مطابق گھر سے باہر بھیجا تھا، انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ چند ہی لمحوں میں ان کی زندگی بدل جائے گی۔

خستہ حال کشتی کو لے کر دیہاتیوں میں ناراضگی

حادثے کے بعد دیہاتیوں میں غم کے ساتھ غصہ بھی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی سرکاری تھی اور کافی عرصے سے خراب حالت میں چل رہی تھی۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ کشتی تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ افسران سے کئی بار شکایت کی گئی تھی اور درخواستیں بھی دی گئی تھیں، لیکن ان کی شکایات پر ضروری کارروائی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق، اگر وقت رہتے کشتی کی مرمت کرا دی جاتی یا اس کی جگہ دوسری کشتی فراہم کر دی جاتی تو شاید اتنا بڑا حادثہ نہ ہوتا۔ تاہم، کشتی کی اصل حالت، حادثے کی وجہ اور شکایات پر کارروائی ہوئی تھی یا نہیں، ان تمام باتوں کی سرکاری تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی۔

رات میں کشتی چلانے کے ضابطوں پر بھی سوالات

حادثے کے بعد کشتی چلانے کے طریقہ کار اور حفاظتی انتظامات پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ مقامی سطح پر یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ سیلاب کے دوران راگھوپور میں رات کے وقت کشتی چلانے کے حوالے سے پابندیاں اور احتیاطی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ ایسے میں یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ حادثے کے وقت کشتی کن حالات میں چل رہی تھی اور کیا حفاظتی ضابطوں پر عمل کیا گیا تھا۔ حادثے کے بعد انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ راحت اور بچاؤ کی کارروائی کے ساتھ حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اب تحقیقات کے ذریعے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ حادثہ کن حالات میں پیش آیا اور کیا کسی سطح پر لاپروائی اس کی ذمہ دار تھی۔

وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ نے دکھ کا اظہار کیا

اس دردناک واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ان کی تعزیت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ اس حادثے نے ایک بار پھر ندی کے راستے سفر کرنے والے لوگوں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر راگھوپور جیسے علاقوں میں، جہاں ندی پار کرنے کے لیے کشتیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، وہاں محفوظ کشتیوں کی دستیابی اور ان کی باقاعدہ دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے۔ فی الحال سب سے بڑی تشویش ان خاندانوں کی ہے جنہوں نے اپنے بچوں اور قریبی عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ ایسے مشکل وقت میں متاثرہ خاندانوں کو مالی مدد، ضروری سہولیات اور جذباتی سہارا فراہم کرنا اہم ہے۔ اس کے ساتھ ہی حادثے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے یہ طے کرنا بھی ضروری ہے کہ کہیں کسی کی لاپروائی کی وجہ سے اتنے لوگوں کی جان تو نہیں گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

From Teesta to Trishuli: تیستا سے تریشولی تک: ہمالیائی پن بجلی کے لیے موسمیاتی حقائق کا جائزہ کیوں ضروری ہے؟

صرف بجلی پیدا کرنے کی نصب شدہ صلاحیت اور منصوبوں کے اعداد و شمار کافی…

12 minutes ago

’Meaning of ‘Inquilab Zindabad: انقلاب زندہ باد آج بھی کیوں گونجتا ہے؟ سڑکوں پر کیا ہو رہا ہے اور لوگ آخر کہنا کیا چاہتے ہیں؟

انقلاب زندہ باد کا اصل مطلب کیا ہے؟ بھگت سنگھ کے خیالات سے نکلا یہ…

26 minutes ago

Meerut Blue Drum Murder Case: میرٹھ کے نیلے ڈرم قتل معاملے میں عدالت کا بڑا فیصلہ، ساحل اور مسکان کو پھانسی کی سزا

میرٹھ کے مشہور سوربھ راجپوت قتل معاملے میں عدالت نے مسکان رستوگی اور اس کے…

1 hour ago

UP MLC Elections: اکھلیش یادو کا بڑا داؤ، تو یوگی آدتیہ ناتھ کی دھواں دھار ریلیاں! یوپی کی 11 ایم ایل سی نشستوں پر سیاسی گھمسان

اتر پردیش میں قانون ساز کونسل کے انتخابات اسمبلی الیکشن سے پہلے دونوں جماعتوں کے…

2 hours ago