قومی

RSS Chief Mohan Bhagwat: نئی نسل ہر بات پر سوال کرتی ہے، ان سے مکالمہ ضروری ہے: سی جے پی احتجاج کے دوران آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا بیان

نئی دہلی : دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں جاری احتجاج اور نیٹ پیپر لیک معاملے پر بڑھتی سیاسی سرگرمیوں کے درمیان راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نئی نسل ہر بات پر سوال کرتی ہے، اس لیے انہیں ڈانٹنے یا نظر انداز کرنے کے بجائے دلیل، محبت اور مکالمے کے ذریعے سمجھانے کی ضرورت ہے۔موہن بھاگوت نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ والدین کے وقت، توجہ اور اپنائیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بدلتے دور میں نوجوانوں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا سنجیدگی سے جواب دینا اور ان کی درست رہنمائی کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ وقت اور حالات بدل سکتے ہیں، لیکن مادریت کی بنیادی اقدار کبھی تبدیل نہیں ہوتیں۔ محبت، قربانی، ہمدردی اور اچھے اخلاق ہی مادریت کی اصل بنیاد ہیں، جو ہر دور میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کی تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور بہتر کردار کی تشکیل بھی اتنی ہی ضروری ہے۔آر ایس ایس سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو خود بھی مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات اور بچوں کے نئے سوالات کا مناسب جواب دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ثقافت میں خاندانی نظام اور مادریت کو ہمیشہ خصوصی مقام حاصل رہا ہے اور یہی اقدار معاشرے کی مضبوط بنیاد ہیں۔

موہن بھاگوت نے سوامی وویکانند، مہاتما گاندھی اور رابندر ناتھ ٹیگور جیسے عظیم مفکرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام شخصیات نے اپنے افکار میں مادریت، خاندانی نظام اور ہندوستانی تہذیبی اقدار کی اہمیت پر زور دیا ہے۔دریں اثنا، جنتر منتر پر سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج بدستور جاری ہے۔ پارٹی تعلیمی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جمعہ کو سی جے پی کے نمائندوں نے مرکزی حکومت کے دو وزراء سے ملاقات کرکے اپنے مطالبات پیش کیے تھے، تاہم بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

ادھر تنظیم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے دوران ملک کے 23 صوبوں میں منعقدہ اجلاسوں میں تقریباً 37 ہزار خواتین نے شرکت کی، جبکہ وشومانگلیہ سبھا اس وقت 33 صوبوں میں سرگرم ہے اور اس کے ساتھ تقریباً چھ لاکھ خواتین وابستہ ہیں۔ تنظیم کی سرگرمیاں بھارت کے علاوہ امریکہ، نیدرلینڈ سمیت 14 ممالک میں جاری ہیں، جن کا مقصد خواتین میں مادریت، اخلاقی اقدار، ثقافتی شعور اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دے کر خاندان، معاشرے اور قوم کی تعمیر میں ان کے کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

9 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

10 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

11 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

11 hours ago