قومی

BMC Election: ممبئی کی کرسی کس کے نام؟ ایشیا کی سب سے امیر سِوک باڈی پر قبضے کی جنگ

مہاراشٹر میں آج ہونے والے بلدیاتی انتخابات محض مقامی سطح تک محدود نہیں رہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت ریاست کی 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ووٹنگ کو ایک طرح سے ’’منی اسمبلی الیکشن‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ممبئی کی بی ایم سی پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں، جہاں دولت، طاقت اور سیاسی وقار کا اصل امتحان ہے۔ یہ انتخاب طے کرے گا کہ ممبئی کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی اور کس کی سیاسی وراثت آگے بڑھے گی۔

ایشیا کی سب سے امیر سِوک باڈی

ممبئی میونسپل کارپوریشن، جسے بی ایم سی کہا جاتا ہے، ایشیا کی سب سے مالدار شہری بلدیاتی ادارہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کا سالانہ بجٹ تقریباً 75 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ محض ایک میونسپل کارپوریشن کا انتخاب نہیں بلکہ ممبئی اور اس کے مضافات کی سیاست سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ بی ایم سی کا براہِ راست اثر مہاراشٹر اسمبلی کی 36 نشستوں اور لوک سبھا کی 6 نشستوں پر پڑتا ہے۔ یہاں کے 227 وارڈز میں جو پارٹی مضبوط پوزیشن بناتی ہے، وہی ریاستی سیاست میں وزارت تک رسائی کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے۔

ٹھاکرے خاندان کا پرانا غلبہ

1996 سے 2017 تک ممبئی کی بی ایم سی پر ٹھاکرے خاندان کا واضح غلبہ رہا، لیکن شیوسینا کی تقسیم کے بعد پہلی بار حالات یکسر بدل گئے ہیں۔ اب پارٹی دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ ایکناتھ شندے کے پاس تنظیم کا نام اور انتخابی نشان ہے، جبکہ ادھو ٹھاکرے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسے میں یہ انتخاب نہایت اہم ہو گیا ہے، کیونکہ یہی طے کرے گا کہ ممبئی کے ووٹر کس کو ’’اصلی شیوسینا‘‘ مانتے ہیں اور اپنی سیاسی وفاداری کس کے ساتھ برقرار رکھتے ہیں۔

بی جے پی کے لیے بڑا موقع

بھارتیہ جنتا پارٹی اس انتخاب کو ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اگر پارٹی پہلی بار اپنے بل بوتے پر بی ایم سی پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی ہوگی۔ دوسری طرف، ٹھاکرے خاندان کے لیے شکست کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کا آخری مضبوط سیاسی قلعہ بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔

مندر میں درشن، انتخاب سے پہلے آشیرواد

ووٹنگ شروع ہونے سے کچھ ہی دیر قبل ادھو ٹھاکرے اپنے خاندان کے ساتھ ممبئی کے مشہور ممبا دیوی مندر میں درشن کے لیے پہنچے۔ اسی دوران راج ٹھاکرے بھی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مندر میں نظر آئے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ اس سخت انتخابی مقابلے میں ٹھاکرے خاندان کو عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ دیوی دیوتاؤں کے آشیرواد کی بھی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

شیوسینا کی وراثت اور بدلتا منظرنامہ

1966 میں بال ٹھاکرے نے شیوسینا کی بنیاد رکھی تھی اور صرف دو سال بعد، 1968 میں ہی پارٹی نے بی ایم سی انتخابات میں 42 نشستیں جیت کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد شیوسینا نے لگاتار اپنی گرفت مضبوط کی اور ممبئی کی سیاست میں گہرا اثرقائم رکھا۔ 2017 کے پچھلے بی ایم سی انتخابات میں بھی پارٹی نے 84 نشستیں حاصل کر کے میئر کا عہدہ اپنے پاس رکھا، لیکن موجودہ حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ تقریباً نو برس بعد ہونے والے اس انتخاب میں شیوسینا دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، جس سے مقابلہ مزید دلچسپ اور چیلنجنگ بن گیا ہے۔

نشستوں پر براہِ راست مقابلہ

زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو اس بار 69 وارڈز میں شیوسینا (یو بی ٹی) اور شندے گروپ کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ ہے۔ جبکہ 97 نشستوں پر ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔ اس کے علاوہ 18 وارڈز میں شندے گروپ اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) آمنے سامنے ہیں، جبکہ تقریباً 35 نشستوں پر بی جے پی اور ایم این ایس کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

مراٹھی اسمتا اور ہندوتوا کا سوال

اس انتخاب میں ہندو فخر اور مراٹھی اسمتا کی اس سیاست کا بھی امتحان ہو رہا ہے، جس کی بنیاد بال ٹھاکرے نے رکھی تھی۔ بی ایم سی انتخابات کے دوران مسلمان میئر، ہندو میئر اور مراٹھی میئر جیسے موضوعات پر زبردست سیاسی بحث اور محاذ آرائی دیکھنے میں آئی ہے۔

آخری قلعہ بچانے کی جنگ

ایک وقت تھا جب شیوسینا کا نام آتے ہی ٹھاکرے خاندان کی شناخت اس سے جڑ جاتی تھی، لیکن حالیہ اسمبلی انتخابات نے اس تصویر کو کافی حد تک بدل دیا ہے۔ اب بی ایم سی کا یہ انتخاب نہ صرف پارٹی بلکہ پورے خاندان کے سیاسی مستقبل کی سمت طے کرنے والا مانا جا رہا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا ٹھاکرے خاندان اپنے آخری مضبوط قلعے کو بچانے میں کامیاب ہوگا یا پھر لگاتار چھ فتوحات کے بعد ساتویں بار ان کی روایت ٹوٹ جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Maulana Arshad Madani on UCC: یو سی سی پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے؟

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…

9 minutes ago

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

3 hours ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

3 hours ago