رانچی: ملک بھر میں جہاں 15 اگست کو یومِ آزادی کا جشن منایا جا رہا تھا، وہیں جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں سیاسی اور طلبہ تحریکوں کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ جھارکھنڈ لوک تانترک کرانتی کاری مورچہ (JLKM) کے سرکردہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو کو مبینہ طور پر جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں منعقدہ ترنگا یاترا میں شرکت سے پولیس نے روک دیا۔ الزام ہے کہ اس دوران مہتو کے سینے پر چوٹ آئی، جس کے بعد وہ اپنے کمرے کے باہر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے۔
14 दिनों से भूख हड़ताल पर बैठे मेरे साथ आज पुलिस द्वारा धक्का-मुक्की और बलपूर्वक रोकने की कोशिश की गई। मेरे साथ मौजूद साथियों के साथ भी पुलिस द्वारा मारपीट की गई।
कई दिनों से भूखा होने के बावजूद मैं अपने अधिकार और जनता की आवाज़ के लिए खड़ा हूँ। हमें इस तरह रोककर हमारी आवाज़ को… pic.twitter.com/TRxMaMkBqR
— Devendra Nath Mahto (@DevendraNathMa9) August 15, 2026
کمرے کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات
دیویندر مہتو گزشتہ 14 دنوں سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ 2 اگست کو رانچی میں اسمبلی گھیراؤ کے دوران لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد انہیں صدر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ مہتو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک جذباتی پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں پرچم کشائی اور ترنگا مارچ میں شرکت کی خواہش ظاہر کرنے کے بعد ان کے اسپتال کے کمرے کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ’’آخر یہ کیسی آزادی ہے؟ کیا ہم اپنے ہی ملک میں ترنگا لہرانے کے لیے آزاد نہیں ہیں؟‘‘
पुलिस द्वारा लगातार धक्का-मुक्की कर मुझे रोका गया। आखिरकार मैं अपने रूम के गेट के बाहर ही बैठ गया हूँ।
जब तक मुझे यहाँ से बाहर निकलने नहीं दिया जाता, तब तक मैं यहीं बैठा रहूँगा। मैं अपना इलाज भी नहीं करवाऊँगा और यहीं रहकर अपनी बात रखूँगा।
मेरी लड़ाई जनता के अधिकार और न्याय के… pic.twitter.com/2dgT1CIw6e
— Devendra Nath Mahto (@DevendraNathMa9) August 15, 2026
’علاج نہیں کراؤں گا، عوام کے حقوق کی لڑائی جاری رہے گی‘
واقعے کے بعد دیویندر مہتو اپنے کمرے کے دروازے پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ وہیں بیٹھے رہیں گے۔ مہتو نے واضح کیا کہ وہ اپنا علاج بھی نہیں کرائیں گے اور پرامن طریقے سے اپنی بات رکھتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی عوام کے حقوق اور انصاف کے لیے ہے اور پولیس کی کارروائی سے ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
طلبہ کا احتجاج بھی جاری
جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم اس وقت طلبہ کے احتجاج کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں ہزاروں امیدوار جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (JSSC) کی جانب سے منعقد ہونے والے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ دیویندر مہتو کی جانب سے بھی عوام اور امیدواروں کے حقوق کے لیے تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…