قومی

Moon Volcano Discovery: چاند پر ملا ایسا ’حیران کن‘ ثبوت، سائنس داں بھی حیرت زدہ، کیا مستقبل کی خلائی مہمات ہو  جائیں گی تبدیل؟

زمین سے تقریباً 3.84 لاکھ کلومیٹر دور موجود چاند ہمیشہ سے سائنس دانوں کے لیے رازوں کی دنیا رہا ہے۔ بظاہر خاموش، خشک اور سرد نظر آنے والے اس آسمانی جسم کے بارے میں حالیہ تحقیق نے ایک بار پھر ماہرین کو حیران کردیا ہے۔  سائنس دانوں کو چاند سے لائے گئے پرانے نمونوں میں پانی کے مالیکیولز کے شواہد ملے ہیں، جس سے چاند کے اندرونی حصوں میں پانی کی موجودگی سے متعلق پرانے نظریات کو مزید تقویت ملی ہے۔ یہ دریافت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ چاند کی سطح پر مائع پانی کا وجود انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند کی مٹی اور معدنی ذرات کے اندر پانی کے مالیکیول محفوظ ہوسکتے ہیں۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ چاند کے اندر پانی آخر پہنچا کیسے اور اربوں سال سے وہاں کس شکل میں موجود ہے۔

1971 میں لائے گئے نمونوں نے کھولا راز

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ ثبوت کسی نئے مشن کے دوران فوری طور پر نہیں ملا، بلکہ 1971 میں خلائی مشن کے ذریعے چاند سے زمین پر لائے گئے سبز شیشے جیسے چھوٹے ذرات کے دوبارہ تجزیے سے سامنے آیا ہے۔ نئی تحقیق میں ان نمونوںمیں پانی کے مالیکیولز کے اشارے ملے ہیں۔یہ نمونے چاند پر قدیم آتش فشانی سرگرمی کے دوران بننے والے شیشے کے ذرات سے متعلق ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان ذرات میں محفوظ پانی چاند کی اندرونی ساخت اور اس کی قدیم تاریخ کو سمجھنے میں اہم سراغ فراہم کرسکتا ہے۔

چاند پر پانی کی موجودگی کیوں اہم ہے؟

چاند پر پانی کی موجودگی مستقبل کی خلائی مہمات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ پانی صرف پینے کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ اس سے آکسیجن حاصل کی جاسکتی ہے اور ہائیڈروجن و آکسیجن کو مستقبل میں راکٹ ایندھن بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اسی وجہ سے دنیا کی بڑی خلائی ایجنسیاں چاند کے جنوبی قطب پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ مستقل سایے میں موجود گہرے گڑھوں میں برف کی موجودگی کے امکانات زیادہ ہیں۔ چین کا آئندہ چانگ ای-7 مشن بھی ایسے ہی علاقوں میں برف کی تلاش پر توجہ مرکوز کرے گا۔

بھارت کی چاند پر تاریخی کامیابی

بھارت کا چندریان-3 مشن بھی چاند کے جنوبی قطبی خطے میں اہم سائنسی معلومات حاصل کرچکا ہے۔ اس مشن کے وکرم لینڈر نے چاند کی سطح پر تقریباً 50 سینٹی میٹر کی چھلانگ لگا کر مختلف مقام سے تجربات کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس دوران چاند کی ریگولِتھ یعنی سطحی مٹی کی حرارتی اور طبعی خصوصیات کا بھی مطالعہ کیا گیا۔

سائنس دانوں کے لیے چاند پر پانی کی نئی معلومات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ یہ مستقبل میں وہاں طویل مدتی انسانی موجودگی اور سائنسی اڈے قائم کرنے کے امکانات کو مزید مضبوط کرسکتی ہے۔ یوں چاند، جو صدیوں سے انسان کو دور سے خاموش اور بے جان دکھائی دیتا رہا ہے، اب مسلسل نئے راز ظاہر کررہا ہے۔ تازہ تحقیق نے یہ واضح کردیا ہے کہ چاند کے بارے میں انسان ابھی بہت کچھ نہیں جانتا اور آنے والے خلائی مشن اس کے مزید پوشیدہ راز دنیا کے سامنے لاسکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

4 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

4 hours ago