قومی

Azolla Farming Success Story: دھمتری کی خواتین نے ڈھونڈ لیا ’آمدنی کا جادوئی نسخہ‘، ازولا اگا کر ہر ماہ حاصل کر رہی ہیں اچھا خاصا منافع

 کم جگہ، کم لاگت اور محدود محنت میں تیار ہونے والی ازولا نے خواتین کے لیے آمدنی کا نیا ذریعہ پیدا کیا ہے۔ازولا ایک قسم کا آبی پودا ہے جس میں پروٹین سمیت کئی غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ اسے خاص طور پر مویشیوں کے لیے غذائی سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گائے، بھینس اور دیگر مویشیوں کی خوراک میں ازولا شامل کرنے سے غذائیت کی ضرورت پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

کم لاگت میں شروع کیا کاروبار

دھمتری کی خواتین نے ازولا کی پیداوار کے لیے چھوٹے ٹینک یا گڑھے تیار کیے ہیں۔ ان میں پانی اور ضروری نامیاتی اجزا شامل کرکے ازولا اگائی جاتی ہے۔ مناسب دیکھ بھال کے ساتھ یہ تیزی سے پھیلتی ہے اور بار بار پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔

اس کاروبار کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیے بڑے رقبے یا بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خواتین اپنے گھروں یا کھیتوں کے قریب محدود جگہ میں بھی ازولا تیار کرسکتی ہیں۔ اس طرح وہ گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آمدنی کا ذریعہ بھی بنا رہی ہیں۔

مویشی پالنے والوں کے لیے بھی فائدہ مند

ازولا کی کاشت سے صرف خواتین کو آمدنی نہیں مل رہی بلکہ مویشی پالنے والے کسانوں کو بھی فائدہ ہورہا ہے۔ اسے مویشیوں کی خوراک میں شامل کیا جاسکتا ہے، جس سے کسانوں کو اضافی غذائی خوراک کا مقامی ذریعہ ملتا ہے۔ خواتین ازولا کی تیار فصل کو مقامی سطح پر فروخت کرکے آمدنی حاصل کررہی ہیں۔ بعض خواتین اپنی پیداوار کا ایک حصہ اپنے مویشیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں جبکہ اضافی پیداوار بازار میں فروخت کردی جاتی ہے۔

خواتین کے لیے خود روزگار کا نیا راستہ

ازولا کی کاشت نے دھمتری میں خواتین کو خود روزگار سے جوڑنے کی ایک نئی مثال پیش کی ہے۔ اس کام میں خواتین کو نہ صرف اپنی محنت کا براہ راست فائدہ مل رہا ہے بلکہ وہ دوسروں کو بھی مویشیوں کی بہتر خوراک دستیاب کرانے میں مدد کررہی ہیں۔دیہی علاقوں میں جہاں روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں، وہاں اس طرح کے کم لاگت والے کاروبار خواتین کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ازولا کی پیداوار نے انہیں گھر کے قریب رہتے ہوئے آمدنی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

محنت سے خود کفالت کی طرف قدم

دھمتری کی ان خواتین کی کامیابی اس بات کی مثال ہے کہ مناسب تربیت، مقامی وسائل اور چھوٹے پیمانے پر شروع کیا گیا کام بھی آمدنی کا مستقل ذریعہ بن سکتا ہے۔ ازولا کی کاشت سے حاصل ہونے والی آمدنی نے خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے ساتھ انہیں معاشی طور پر مضبوط بنانے میں بھی مدد کی ہے۔ خواتین اب اس کام کو مزید وسعت دینے اور ازولا کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کی یہ پہل دیہی خواتین کے لیے خود روزگار اور خود کفالت کی جانب ایک قابل ذکر قدم کے طور پر دیکھی جارہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

 

Abul Kalam

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

5 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

5 hours ago