کولکاتا: مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل ووٹر لسٹ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران حذف کیے گئے لاکھوں ووٹرز میں سے محدود تعداد کو دوبارہ شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ بدھ 29 اپریل کو ریاست کے سات اضلاع کی 142 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ ہونی ہے، جس سے پہلے نظرثانی شدہ لسٹ جاری کر دی گئی ہے۔ الیکشن حکام کے مطابق ٹریبونل نے دوسرے مرحلے کے لیے 1474 درخواستوں کا جائزہ لیا، جن میں سے 1468 ووٹرز کو دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کر لیا گیا، جبکہ 6 درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ اس طرح بڑی تعداد میں حذف شدہ ووٹرز کے مقابلے میں بحال کیے گئے ناموں کی تعداد انتہائی محدود رہی ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہو گیا جب معلوم ہوا کہ ایس آئی آر کے دوران ان سات اضلاع میں مجموعی طور پر 12,87,622 ووٹرز کے نام لسٹ سے ہٹا دیے گئے تھے۔ بعد ازاں عدالت کی ہدایات کے مطابق اپیلوں کی سماعت کے لیے ٹریبونل قائم کیا گیا، جہاں متاثرہ افراد کو اپنے حق میں دلائل پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں اہم حلقے شامل ہیں، جن میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی نشست بھوانی پور بھی شامل ہے۔ اس مرحلے کو ریاستی سیاست کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے نتائج آئندہ سیاسی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ 23 اپریل کو ہوئی تھی، جس کے لیے بھی اسی طرح کی نظرثانی کی گئی تھی۔ پہلے مرحلے میں 657 درخواستوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے صرف 139 ووٹرز کے نام بحال کیے گئے تھے، جبکہ 8 کو حذف کر دیا گیا اور 518 درخواستوں کو غلط قرار دیا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں دوسرے مرحلے میں بحال کیے گئے ووٹرز کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے، تاہم مجموعی حذف شدہ ووٹرز کے مقابلے میں یہ شرح اب بھی کم ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق اس بار غلط درخواستوں کی تعداد صفر رہی ہے، لیکن اس کی بنیاد کیا تھی، اس بارے میں تفصیلی وضاحت ابھی سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شفافیت کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے تاکہ عوامی اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔ ایس آئی آر عمل شروع ہونے کے بعد سے ہی مغربی بنگال میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ اس عمل کے تحت ریاست بھر میں تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے نام لسٹ سے حذف کیے گئے، جو کل ووٹرز کا تقریباً 12 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں سے 60 لاکھ سے زائد افراد کو غیر حاضر یا فوت شدہ قرار دیا گیا، جبکہ تقریباً 27 لاکھ معاملات ٹریبونل کے سامنے اپیل کی صورت میں پیش ہوئے۔
تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر سپریم کورٹ آف انڈیا نے 13 اپریل کو آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ ضمنی ووٹر لسٹ جاری کرے، تاکہ وہ افراد جنہیں ٹریبونل سے منظوری مل چکی ہے، ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ جن اپیلوں پر 21 اپریل اور 27 اپریل تک فیصلہ ہو چکا ہے، وہ بالترتیب پہلے اور دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ صرف اپیل زیر التوا ہونے کی بنیاد پر کسی کو ووٹ دینے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست میں مجموعی طور پر 34 لاکھ سے زائد اپیلیں دائر کی گئی تھیں، جن میں غلط طریقے سے نام حذف کیے جانے کے علاوہ کچھ افراد نے نئی فہرست میں شامل ناموں پر بھی اعتراض کیا تھا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی ایک بڑا انتخابی مسئلہ بن چکی ہے، جس کے اثرات ووٹنگ کے عمل اور نتائج دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔ اب تمام نظریں 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ پر مرکوز ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ ان تبدیلیوں کا انتخابی نتائج پر کیا اثر پڑتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…