کولکاتا: مغربی بنگال میں اقتدار سنبھالتے ہی وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے قومی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ایک اہم اور اسٹریٹجک فیصلہ لیا ہے۔ ریاستی حکومت نے شمالی بنگال کے انتہائی حساس اور دفاعی اعتبار سے نہایت اہم سلی گوڑی کوریڈور، جسے عرف عام میں ”چکن نیک“ کہا جاتا ہے، کی تقریباً 120 ایکڑ زمین مرکزی حکومت کو منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ دفاعی ماہرین اس فیصلے کو مشرقی سرحدوں پر بھارت کی مضبوطی اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزارت دفاع کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت چین، بنگلہ دیش اور نیپال سے جڑے حساس سرحدی علاقوں میں بھارت کی فوجی اور لاجسٹک طاقت کو مزید ناقابل تسخیر بنایا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ترنمول کانگریس حکومت کے دور میں یہ معاملہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے برسوں سے التوا کا شکار تھا، تاہم اقتدار کی تبدیلی کے بعد اس پر تیزی سے عمل شروع کیا گیا۔
سلی گوڑی کوریڈور جغرافیائی اعتبار سے بھارت کا سب سے حساس علاقہ مانا جاتا ہے۔ نقشے پر یہ حصہ مرغی کی گردن جیسا دکھائی دیتا ہے، اسی لیے اسے ”چکن نیک“ کہا جاتا ہے۔ یہ راہداری بھارت کے مرکزی حصے کو شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑتی ہے۔ اس کی چوڑائی بعض مقامات پر صرف 20 سے 22 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ ایک جانب نیپال، دوسری طرف بنگلہ دیش اور شمال میں بھوٹان کے اوپر چین کی چمبی وادی واقع ہے، جس کی وجہ سے اس کی اسٹریٹجک اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈوکلام تنازعہ کے دوران بھی چین کی نظریں اسی راہداری پر مرکوز تھیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی ممکنہ جنگی صورتحال میں اگر اس تنگ راہداری کو بند کر دیا جائے تو پورا شمال مشرقی بھارت ملک کے باقی حصوں سے کٹ سکتا ہے۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کافی عرصے سے یہاں ایک مضبوط سیکورٹی ڈھانچہ قائم کرنا چاہتی تھی۔
مرکزی حکومت کافی وقت سے اس علاقے میں زمین کی مانگ کر رہی تھی تاکہ سرحدی سیکورٹی کو مضبوط کیا جا سکے اور فوج کی تیز نقل و حرکت کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار ہو۔ تاہم سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور مرکز کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کی وجہ سے یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ اب وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے اقتدار سنبھالتے ہی انتظامی رکاوٹیں ختم کرتے ہوئے زمین کی منتقلی کے عمل کو تیز رفتار بنا دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس 120 ایکڑ زمین پر بھارتی فوج اور بی ایس ایف کے لیے جدید لاجسٹک ہب، فوجی انفراسٹرکچر، ریڈار سسٹم اور کوئیک ری ایکشن ٹیموں کے مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں۔ ان تنصیبات کا مقصد کسی بھی ممکنہ خطرے، خصوصاً چین کی جانب سے ہونے والی کسی اشتعال انگیزی، کا فوری جواب دینے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا وقت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام اور اقتدار کی تبدیلی کے بعد بھارت کی مشرقی سرحدوں پر سیکورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دوسری طرف چین مسلسل بھوٹان کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے بہانے ڈوکلام کے قریب اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایسے حالات میں سلی گوڑی کوریڈور میں بھارت کا دفاعی طور پر مضبوط ہونا ناگزیر سمجھا جا رہا تھا۔ اس نئی زمین کی دستیابی سے فوج کو نہ صرف بہتر لاجسٹک سہولت ملے گی بلکہ شمال مشرقی ریاستوں تک رسد، فوجی سامان اور ریل و سڑک رابطوں کو بھی مضبوط حفاظتی حصار حاصل ہو جائے گا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے اقتدار میں آتے ہی یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی حکومت کے لیے ” راشٹر فرسٹ“ یعنی ملک پہلے کی پالیسی سب سے اہم ہے۔ ایک طرف وہ ریاست میں انتظامی تبدیلیوں اور قانون و انتظام کی بہتری پر زور دے رہے ہیں، تو دوسری طرف مرکز کے ساتھ مل کر قومی سلامتی کے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد سلی گوڑی راہداری میں بھارت کی دفاعی صلاحیت اس قدر مضبوط ہو جائے گی کہ مستقبل میں چین یا کوئی اور طاقت بھارت کی اس اہم ”لائف لائن“ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکے گی۔
بھارت ایکپریس اردو۔
اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے…
اسرائیلی وزیر اعظم نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی پر یہود مخالف جذبات کو ہوا…
مرکزی وزیر ہرش ملہوترا نے نئی دہلی سے ’یوتھ سیفٹی اینڈ اسمارٹ موبلٹی مہم 2026‘…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کو خراجِ عقیدت پیش کیا، کہا-…