قومی

West Bengal Assembly Election Results 2026: کیا ممتا کا جادو برقرار رہے گا یا پہلی بار کھلے گا کمل؟ فیصلہ کن فیکٹر پر گہری نظر

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کا بے صبری سے انتظار ختم ہونے کو ہے، جہاں پیر 4 مئی کی صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور دوپہر تک سیاسی منظرنامہ کافی حد تک واضح ہو جائے گا۔ اس بار کا انتخاب کئی حوالوں سے غیر معمولی رہا ہے، جس میں ریکارڈ ووٹنگ، کم مرحلوں میں پولنگ اور سکیورٹی کے سخت انتظامات شامل ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایک بار پھر ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس اقتدار برقرار رکھے گی یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پہلی بار ریاست میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگی۔

کیا ریکارڈ ووٹنگ سے بازی پلٹ جائے گی؟
اس بار مغربی بنگال میں کل 293 اسمبلی نشستوں پر دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی، جو ماضی کے مقابلے میں ایک نیا تجربہ رہا۔ اس سے قبل ریاست میں کئی بار آٹھ مرحلوں میں پولنگ کرائی جا چکی ہے، لیکن 2026 میں سکیورٹی کے بہتر انتظامات کے باعث صرف دو مرحلوں میں ووٹنگ مکمل ہوئی اور کسی بھی قسم کے جانی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی فورسز کی سب سے بڑی تعیناتی بھی اسی انتخاب میں دیکھنے کو ملی، جس نے پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کیا ڈیموگرافکس میں فرق کا کوئی اثر پڑے گا؟
سب سے اہم پہلو اس بار کی ریکارڈ ووٹنگ رہی، جس نے انتخابی تاریخ میں نیا باب رقم کیا۔ 2011 میں 84 فیصد، 2016 میں 82.66 فیصد اور 2021 میں 81.56 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی، لیکن اس بار یہ شرح 92 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹنگ نے انتخابی نتائج کو غیر متوقع بنا دیا ہے۔ خاص طور پر پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر تقریباً 21 لاکھ زائد ووٹ ڈالے گئے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر بھی 9 لاکھ سے زیادہ ووٹ بڑھے۔ اس اضافے کو مہاجر مزدوروں کی واپسی اور عوامی جوش و خروش سے جوڑا جا رہا ہے، جو ایک اہم ’ایکس فیکٹر‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈیموگرافکس کے اعتبار سے بھی اس بار کا انتخاب خاص اہمیت رکھتا ہے۔ پہلے مرحلے میں زیادہ تر دیہی ووٹرز شامل تھے، جہاں مسلم، درج فہرست ذاتوں اور قبائلی آبادی کا خاصا اثر رہا۔ دوسرے مرحلے میں شہری ووٹرز کا تناسب زیادہ تھا، جس سے انتخابی نتائج پر مختلف اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فرق دونوں بڑی جماعتوں کے ووٹ بینک پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ لیفٹ، کانگریس اور آئی ایس ایف جیسی جماعتیں بھی کئی نشستوں پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

بی جے پی کے حق میں کون سے فیکٹر؟
بی جے پی نے اس انتخاب میں اینٹی انکمبینسی یعنی حکومت مخالف لہر کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ 15 برس سے ترنمول کانگریس کی حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی، بدعنوانی کے الزامات، اور خواتین کی سلامتی جیسے مسائل کو اہم انتخابی ایشو بنایا گیا۔ آر جی کر ریپ کیس اور دیگر حساس واقعات نے بھی عوامی جذبات کو متاثر کیا، جس کا فائدہ بی جے پی کو مل سکتا ہے، خاص طور پر شہری اور متوسط طبقے میں۔ اس کے علاوہ آلو کسانوں کی ناراضگی بھی ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آئی ہے، کیونکہ انہیں اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ تقریباً 26 نشستوں پر کسانوں کا اثر ہے، جہاں بی جے پی نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ علاقوں میں مذہبی اور سماجی بنیادوں پر پولرائزیشن بھی دیکھی گئی، جو بی جے پی کے حق میں جا سکتی ہے۔

حکمران ترنمول کو کہاں فائدہ؟
دوسری جانب ترنمول کانگریس کی سب سے بڑی طاقت اس کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہے، خاص طور پر بوتھ سطح پر۔ یہی تنظیمی قوت ووٹرز کو آخری لمحے تک متحرک رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیمیں جیسے لکشمی بھنڈار، کنیاشری اور روپشری خواتین اور کمزور طبقات میں کافی مقبول ہیں، جو ترنمول کے لیے بڑا ووٹ بینک ثابت ہو سکتی ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق مسلم ووٹ بینک کا جھکاؤ بھی بڑی حد تک ترنمول کی طرف رہ سکتا ہے، جبکہ متوا برادری کی ناراضگی بھی ایک پیچیدہ فیکٹر ہے، جو نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔ جنگل محل جیسے علاقوں میں ترنمول نے اپنی کھوئی ہوئی زمین کافی حد تک واپس حاصل کی ہے، جو اس کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

اس بار الیکشن میں کیا اہم فیکٹر؟
اس انتخاب میں کئی ’ایکس فیکٹر‘ بھی ہیں، جن میں ووٹر لسٹ سے لاکھوں ناموں کا خارج ہونا، بی جے پی کے مالی وعدے، بے روزگاری بھتہ اور سرکاری ملازمین کے مسائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تیسری طاقت یعنی لیفٹ-کانگریس-آئی ایس ایف اتحاد کا کردار بھی نہایت اہم ہوگا، کیونکہ کئی نشستوں پر جیت اور ہار کا فیصلہ انہی کے ووٹوں کی تقسیم پر منحصر ہو سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ بنگال کا یہ انتخاب کسی ایک طرفہ لہر کا نتیجہ نہیں ہوگا، بلکہ کئی پیچیدہ عوامل کا مجموعہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کا فیصلہ کس کے حق میں آتا ہے—کیا ممتا بنرجی ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کریں گی یا بی جے پی پہلی بار ریاست میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

5 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

5 hours ago