قومی

West Bengal assembly election 2026: مغربی بنگال انتخابات سے قبل مسجد-مندر کی گرمائی سیاست ، ٹی ایم سی اراکین اسمبلی کے بیانات پر ہنگامہ

مغربی بنگال میں آئندہ سال یعنی 2026 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی ریاست کی سیاست میں زبردست گرما گرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے معطل رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کی جانب سے بابری مسجد کی تعمیر کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔

ذاکر حسین کا مندر بنانے کا بیان

اسی دوران ٹی ایم سی کے ایک اور رکن اسمبلی اور معروف صنعت کار ذاکر حسین نے بھی بڑا اعلان کر کے سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمایوں کبیر کے بابری مسجد کے اعلان کے بعد اب شری کرشن مندر تعمیر کیا جائے گا، جس پر تقریباً ایک کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مرشدآباد میں محمدی مسجد بنانے کا بھی اعلان کیا۔ ذاکر حسین کا کہنا تھا کہ گیتا اور قرآن میں 85 فیصد باتیں ایک جیسی ہیں، اور دونوں مذاہب انسانیت اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں۔

ذاکر حسین کہاں سے رکن اسمبلی ہیں؟

ذاکر حسین مرشدآباد ضلع کے جنگی پور حلقے سے رکن اسمبلی ہیں۔ وہ اس سے قبل ریاست کے محنت (لیبر) محکمے میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ بیڑی کے کاروبار میں ایک بڑا نام تھے۔ اس وقت وہ ترنمول کانگریس کے سرگرم لیڈر اور ایک کامیاب کاروباری شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

بابری مسجد پر ڈٹے ہمایوں کبیر

دوسری جانب ہمایوں کبیر مرشدآباد کے بھرت پور اسمبلی حلقے سے رکن ہیں۔ انہوں نے 6 دسمبر کو بیلڈانگا میں بابری مسجد کی بنیاد رکھی تھی۔ حامیوں کے ساتھ ربن کاٹ کر انہوں نے سنگِ بنیاد رکھا، جس کے بعد پارٹی قیادت نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کر دیا۔

کنگ میکر بننے کا دعویٰ

ہمایوں کبیر نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ 2026 کے انتخابات کے بعد وہ ’کنگ میکر‘ کا کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو ٹی ایم سی اور نہ ہی بی جے پی اکثریت حاصل کر پائے گی۔ ان کے اندازے کے مطابق 294 رکنی اسمبلی میں کوئی بھی پارٹی 148 نشستوں کا ہندسہ عبور نہیں کر سکے گی، ایسے میں ان کے بغیر حکومت بنانا ممکن نہیں ہوگا۔

نئی پارٹی کے اعلان کے اشارے

ہمایوں کبیر نے اس بات کے بھی اشارے دیے ہیں کہ وہ 22 دسمبر کو اپنی نئی سیاسی جماعت کا اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 135 نشستوں پر انتخابات لڑیں گے اور اتنی سیٹیں جیتیں گے کہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے والے کو ان کی پارٹی کی حمایت حاصل کرنا ہی پڑے گی۔ یوں مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل مذہبی اور سیاسی بیانات نے ماحول کو خاصا حساس بنا دیا ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

UP MLC Elections: اکھلیش یادو کا بڑا داؤ، تو یوگی آدتیہ ناتھ کی دھواں دھار ریلیاں! یوپی کی 11 ایم ایل سی نشستوں پر سیاسی گھمسان

اتر پردیش میں قانون ساز کونسل کے انتخابات اسمبلی الیکشن سے پہلے دونوں جماعتوں کے…

33 minutes ago

PM Narendra Modi: لیہہ ایئرپورٹ سے زانسکار تک چمکے گا لداخ، وزیر اعظم نریندر مودی 3,350 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا کریں گے افتتاح

وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لداخ میں تقریباً 3,350…

38 minutes ago

Mayawati : یوپی کے کنٹریکٹ ملازمین کے حق میں مایاوتی کی آواز، وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے کیا خاص مطالبہ

مایاوتی نے اپنے بیان میں ان ملازمین کا بھی ذکر کیا جو مستقل ملازمت سمیت…

1 hour ago