ترنمول کانگریس کی سینئر رہنما چندریما بھٹاچاریہ نے ہفتہ کے روز بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کی گہری جڑوں والی ’بنگلہ مخالف ذہنیت‘ نے مغربی بنگال کو شدید محرومی میں مبتلا کر دیا ہے۔
مرکز پر فنڈز روکنے کا الزام
چندریما بھٹاچاریہ نے الزام عائد کیا کہ سیاسی انتقام کے تحت مرکز نے مغربی بنگال کے لیے مختص تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے کے واجب الادا فنڈز روک رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’بی جے پی حکومت نے زبردستی اور سیاسی دشمنی کے تحت وہ رقم روک لی ہے جو بنگال کا حق ہے، جس کے باعث ریاست کے عوام آج محرومی کا شکار ہیں۔‘‘
ثقافتی توہین اور متوا برادری کا معاملہ
ٹی ایم سی رہنما نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی بنگال کے عظیم مفکرین اور ثقافتی شخصیات کی توہین کرتی ہے، تو دوسری جانب متوا برادری کو شہریت کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرز عمل بی جے پی کی دوغلی سیاست کو بے نقاب کرتا ہے۔
وزیر اعظم کے بیانات پر سخت ردعمل
چندریما بھٹاچاریہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی بنگال کے تئیں تشویش کو ’’کھوکھلی ہمدردی‘‘ اور ’’مگرمچھ کے آنسو‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’’بنگال کے واجبات چھین لینے کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے دکھائی جانے والی ہمدردی محض دکھاوا ہے۔ ریاست کو بلند بانگ تقاریر نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘
فوری طور پر واجبات جاری کرنے کا مطالبہ
ٹی ایم سی رہنما نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے مغربی بنگال کے تمام زیر التوا واجبات جاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو خالی نعروں کے بجائے ٹھوس اقدامات اور عملی نتائج درکار ہیں۔
وزیراعظم کا ’جنگل راج‘ والا بیان
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے راناگھاٹ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مغربی بنگال کو بھی جنگل راج سے آزاد کرانا ہوگا‘‘ اور ریاست میں بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں 2026 کے پہلے نصف میں اسمبلی انتخابات متوقع ہیں، جس کے پیش نظر ریاست میں سیاسی بیانات اور الزامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…