قومی

West Asia Crisis PM Modi High Level Meeting: وزیراعظم مودی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ، توانائی کے تحفظ، تیل کی سپلائی اور بھارتی ملاحوں کی سلامتی پر اہم غور و خوض

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے بھارت پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع اپنے دفتر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر، وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈووال سمیت کئی سینئر وزراء شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری، وزیرِ صحت جے پی نڈا، وزیرِ تجارت پیوش گوئل اور وزیرِ بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں سربانند سونووال بھی اجلاس میں موجود تھے۔

مغربی ایشیا کے بحران اور توانائی کی فراہمی کا جائزہ

ذرائع کے مطابق اجلاس میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور اس کے بھارت کی توانائی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں، عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی پر غور کیا گیا۔ حکومت نے توانائی کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمتِ عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

بھارتی ملاحوں کی سلامتی بھی ترجیح رہی

اجلاس میں مغربی ایشیا میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بھارتی ملاحوں کی سلامتی کا معاملہ بھی نمایاں طور پر زیرِ بحث آیا۔ حکومت نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک موجود بھارتی شہریوں اور ملاحوں کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں ایران اور امریکہ سمیت متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے مسلسل برقرار رکھے گئے ہیں۔ سمندری راستوں کی سلامتی اور بھارتی تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت پر بھی غور کیا گیا۔

توانائی اور صنعت کے لیے حکومت کے اقدامات

حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود توانائی، کھاد اور دیگر اہم صنعتی خام مال کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں قدرتی گیس کی مسلسل سپلائی، درآمدی ذرائع میں تنوع، پیشگی خریداری اور ضروری اشیا کا بفر اسٹاک تیار رکھنا شامل ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات سے سپلائی چین پر بحران کے اثرات کو محدود رکھنے میں مدد ملی ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے ملی راحت

حکومت نے بتایا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث کچھ عرصے کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ضرور ہوا، تاہم اب صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ بھارت کی اوسط خام تیل باسکٹ قیمت اپریل 2026 میں 114.5 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 22 جولائی 2026 تک 77.6 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔ تجارت اور صنعت کو سہارا دینے کے لیے حکومت نے منتخب پیٹروکیمیکل فیڈ اسٹاک پر عارضی کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دی، بھارت میری ٹائم انشورنس پول ریلیف اسکیم نافذ کی، RoDTEP کے فوائد بحال کیے اور ECLGS 5.0 کے تحت کاروباری اداروں کو اضافی مالی معاونت بھی فراہم کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

28 minutes ago

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

2 hours ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

2 hours ago