قومی

India-New Zealand Bilateral Ties: وزیراعظم مودی کے دورہ نیوزی لینڈ سے ہند-نیوزی لینڈ تعلقات نئے مرحلے میں داخل

نئی دہلی : نیوزی لینڈ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز (NZIIA) کی جانب سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ نیوزی لینڈ کے بعد ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے دوطرفہ تعلقات ایک نئے اور زیادہ مضبوط مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ گزشتہ 20 برسوں میں کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا نیوزی لینڈ کا پہلا دورہ تھا۔مضمون کے مطابق وزیراعظم مودی کے دو روزہ دورے کے دوران نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری (Comprehensive Strategic Partnership) تک وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے “روڈ میپ ٹو 2030” کے عنوان سے چار سالہ فریم ورک بھی تیار کیا گیا، جس میں دفاع، تجارت، سمندری سلامتی، زراعت، سیاحت، کھیل، ثقافت، سائنسی تحقیق اور عوامی روابط جیسے شعبے شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ کی طویل مدتی حکمت عملی میں بھارت کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا، جب کہ اس کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) تقریباً 7 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔مضمون کے مطابق بھارت کا متوسط طبقہ 2030 تک 70 کروڑ سے تجاوز کر سکتا ہے،

جس سے یہ دنیا کی سب سے بڑی صارف منڈیوں میں شامل ہو جائے گا۔ اسی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک نے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو دوگنا کر کے 7 ارب نیوزی لینڈ ڈالر تک پہنچانے کا باضابطہ ہدف مقرر کیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم مودی کے دورے کے دوران مجموعی طور پر 18 اہم نتائج سامنے آئے، جن میں 10 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) شامل ہیں۔ یہ معاہدے صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں طویل مدتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔دفاع اور سمندری سلامتی کو اس دورے کا اہم محور قرار دیا گیا۔ دونوں ممالک نے میوچول لاجسٹکس سپورٹ ارینجمنٹ پر دستخط کیے، جس کے تحت بھارتی بحریہ اور نیوزی لینڈ کی دفاعی افواج تعیناتی کے دوران ایک دوسرے کی بندرگاہی اور لاجسٹک سہولیات، ایندھن، مرمت اور سپلائی کے لیے استعمال کر سکیں گی۔

اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے سمندری تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے، جس کا مقصد بحرِ ہند و بحرالکاہل (انڈو پیسیفک) خطے میں آپریشنل تعاون، معلومات کے تبادلے اور رابطے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ دونوں فریق میرین سیکورٹی ڈائیلاگ شروع کرنے پر بھی متفق ہوئے، جبکہ نیوزی لینڈ بھارت کے انڈو پیسیفک اوشنز انیشی ایٹو کے تحت سمندری سلامتی کے شعبے کی قیادت کرے گا، جہاں غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم ماہی گیری کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا، جو انٹیلی جنس شیئرنگ، معلومات کے تبادلے اور باہمی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنائے گا۔ یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت اور نیوزی لینڈ اپنے تعلقات کو محض تجارتی شراکت داری سے آگے بڑھاتے ہوئے ایک وسیع اسٹریٹجک تعاون میں تبدیل کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

50 minutes ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

1 hour ago