نئی دہلی: ملک بھر میں E20 ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول کے نفاذ پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان مرکزی حکومت نے ایک بار پھر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ایندھن کے استعمال سے گاڑیوں کے انجن یا پرزوں پر کسی قسم کا منفی اثر ثابت نہیں ہوا۔ لوک سبھا میں جمعرات کو مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیں نتن گڈکری نے کہا کہ ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول پروگرام کو مرحلہ وار، سائنسی بنیادوں اور وسیع مشاورت کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔گڈکری نے بتایا کہ ایتھنول کی مقدار میں ایک ساتھ اضافہ نہیں کیا گیا، بلکہ پیداواری صلاحیت، ضروری بنیادی ڈھانچے اور ضابطہ جاتی تیاری مکمل ہونے کے بعد اسے متوازن انداز میں مرحلہ وار بڑھایا گیا۔ حکومت کے مطابق تمام سائنسی مطالعات اور جانچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مقررہ معیار کے مطابق E20 پٹرول کا استعمال مکمل طور پر محفوظ ہے۔
حکومت نے ایوان کو بتایا کہ آزمائشوں کے دوران پرانی گاڑیوں کی کارکردگی میں کوئی نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی اور نہ ہی انجن یا دیگر پرزوں میں غیر معمولی گھساؤ یا خرابی کے شواہد ملے۔ لیبارٹری ٹیسٹ، فیلڈ ٹرائلز اور عملی استعمال کے دوران بھی E20 ایندھن کی وجہ سے گاڑیوں کی کارکردگی پر کسی بڑے منفی اثر کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔سرکار کے مطابق بھارت میں روزانہ تقریباً 8 کروڑ گاڑیاں پٹرول پمپوں سے ایندھن حاصل کرتی ہیں، جن میں تقریباً 80 فیصد پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں ہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین برس سے E15+ اور تقریباً ڈھائی برس سے E19-E20 ملاوٹ شدہ پٹرول کا وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔اس عرصے میں 20 کروڑ سے زائد دوپہیہ گاڑیاں اور 3 کروڑ سے زیادہ پٹرول کاریں ان ملاوٹ شدہ ایندھنوں پر چل چکی ہیں، لیکن ایتھنول کی وجہ سے انجن خراب ہونے یا بڑے پیمانے پر گاڑیوں میں خرابی کا کوئی تصدیق شدہ معاملہ سامنے نہیں آیا۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ مختلف گاڑی ساز کمپنیوں کے سروس ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ E20 ایندھن کے استعمال سے نہ تو غیر معمولی زنگ لگ رہا ہے اور نہ ہی پرزوں کی عمر میں کمی آ رہی ہے۔ تمام بڑی آٹوموبائل کمپنیاں E20 استعمال کرنے والی گاڑیوں پر بدستور وارنٹی فراہم کر رہی ہیں، جو اس ایندھن کی حفاظت اور قابلِ اعتماد ہونے کا ثبوت ہے۔ایک بڑی گاڑی ساز کمپنی نے مالی سال 2025-2026 کے دوران 2.84 کروڑ گاڑیوں کی سروسنگ کی، جن میں تقریباً 1.5 کروڑ ایسی گاڑیاں بھی شامل تھیں جو ابتدا میں E20 کے لیے منظور شدہ نہیں تھیں۔ کمپنی کے مطابق ان میں بھی E20 کے باعث زنگ، غیر معمولی گھساؤ یا پرزوں کی عمر کم ہونے کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح ایک معروف دوپہیہ گاڑی ساز کمپنی اور ایک دیگر آٹوموبائل کمپنی نے بھی اپنے مطالعات میں ایتھنول کے منفی اثرات کے کوئی شواہد نہ ملنے کی تصدیق کی۔
وزیر نے کہا کہ E20 ایندھن نافذ کرنے کے پورے عمل میں آٹوموبائل کمپنیاں، آٹو پارٹس مینوفیکچررز، SIAM، ARAI، ٹیسٹنگ ایجنسیاں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہر مرحلے میں شامل رہیں۔ فیول سسٹم، انجن کی مضبوطی، ڈرائیونگ کارکردگی، مختلف مواد کی مطابقت اور اخراج سے متعلق تمام کامیاب آزمائشوں کے بعد ہی E20 کو مرحلہ وار نافذ کیا گیا۔نتن گڈکری نے کہا کہ اگر گاڑی ساز کمپنیاں ان آزمائشوں سے مطمئن نہ ہوتیں تو وہ نہ پرانی گاڑیوں کے لیے E20 کی منظوری دیتیں اور نہ ہی ان پر وارنٹی جاری رکھتیں۔حکومت کے مطابق SIAM اور ARAI کی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ E20 ایندھن سے گاڑیوں کی رفتار پکڑنے کی صلاحیت (Acceleration) اور رائیڈ کوالٹی بہتر ہوتی ہے، جبکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی آتی ہے۔ مزید یہ کہ ایتھنول کا آکٹین نمبر زیادہ ہونے کے باعث جدید ہائی کمپریشن انجن بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، جبکہ اس کی زیادہ حرارت جذب کرنے کی صلاحیت ایندھن کے بہتر احتراق اور انجن کی مجموعی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…