قومی

Mallikarjun Kharge Manusmriti:منوسمرتی پر راجیہ سبھا میں کھڑگے کے بیان سے ہنگامہ، جے پی نڈا اور سدھانشو ترویدی کا سخت اعتراض

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں جمعرات (30 جولائی) کو لوک پریکشا (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026 پر بحث کے دوران کانگریس صدر اور قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کے منوسمرتی سے متعلق بیان پر ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔ کھڑگے نے مرکزی حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیمی نظام کے معاملے پر نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی توقعات پر پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں ملک بھر میں 152 پرچہ لیک کے واقعات پیش آئے، مگر کسی ایک بھی قصوروار کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت اور متعلقہ ایجنسیاں اس دوران کیا کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں ہونی چاہیے، مگر موجودہ حالات میں تعلیمی اداروں پر آر ایس ایس کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا چھ فیصد خرچ ہونا چاہیے، جبکہ حکومت صرف تین فیصد خرچ کر رہی ہے، جس کے باعث تعلیم نجی اداروں کے حوالے ہوتی جا رہی ہے اور دلت و غریب طبقے کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔تقریر کے دوران کھڑگے نے منوسمرتی سے منسوب بعض اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ نصاب میں قابلِ اعتراض مواد شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خیالات کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں اور انہیں نصاب سے ہٹایا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جامعات میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔

کھڑگے کے اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ ایوان کے قائد اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اس قسم کے بیانات سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار پیدا ہوگا۔ انہوں نے کھڑگے سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں منوسمرتی کی اصل مستند نقل پیش کریں۔ اس دوران چیئرمین نے بھی کھڑگے سے کہا کہ وہ اپنے بیان کی تصدیق کریں اور واضح کیا کہ منوسمرتی سے متعلق کیے گئے ریمارکس کو کارروائی سے حذف کر دیا جائے گا۔

بعد ازاں سدھانشو ترویدی نے اس معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج ولیم جونز اور بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی تحریروں سمیت متعدد کتابوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ کھڑگے اپنے دعووں کی مستند تصدیق پیش کریں۔ اس پر کانگریس رکن پرمود تیواری نے ایک کتاب دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب موجودہ حکومت کے دور میں شائع ہوئی، دستیاب ہے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو 

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

2 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago