رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 فیصد ریستوران بند ہو چکے ہیں اور کاروبار میں ماہانہ 79 ہزار کروڑ روپے کی کمی آئی ہے۔ پی ایچ ڈی سی سی آئی نے آج اپنی رپورٹ ’’مغربی ایشیا تنازع کا بھارت کی سیاحت، ہوا بازی اور مہمان نوازی کے شعبوں پر اثر‘‘ جاری کی، جس میں ہوا بازی، ان باؤنڈ سیاحت، مہمان نوازی اور ریستوران شعبوں میں نمایاں رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے، اگرچہ مضبوط گھریلو طلب نے مجموعی استحکام برقرار رکھا ہوا ہے۔
بھارت کے سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبہ میں غیر یقینی صورتحال
بھارت کا سیاحت اور مہمان نوازی کا شعبہ، جو جی ڈی پی میں تقریباً 8 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 4 کروڑ سے زائد روزگار فراہم کرتا ہے، ایک بار پھر بیرونی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں اس شعبے نے تیزی سے بحالی دیکھی تھی، جہاں برانڈڈ ہوٹلوں کے کمروں کی تعداد تقریباً 2 لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد روزانہ 5 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔ تاہم 2026 کے آغاز میں مغربی ایشیا کے تنازع نے ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ہوا بازی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر
ہوا بازی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ایئر لائنز کو پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی پابندیوں اور بین الاقوامی پروازوں کے راستوں میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے اہم راستوں پر پرواز کا دورانیہ 2 سے 4 گھنٹے تک بڑھ گیا ہے، جس سے ایندھن کی کھپت اور آپریٹنگ لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صنعت کے اندازوں کے مطابق ایندھن ایئر لائنز کی آپریٹنگ لاگت کا 35 سے 40 فیصد ہوتا ہے، اور موجودہ صورتحال نے منافع پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
بھارت آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 15 سے 20 فیصد کمی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سیاحوں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کرنے کے باعث بھارت آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 15 سے 20 فیصد کمی آئی ہے، خاص طور پر تفریحی سفر میں۔ بھارتی سیاحوں کے سفر کے رجحان میں بھی تبدیلی آئی ہے، جہاں طویل فاصلے کے بجائے تھائی لینڈ، سنگاپور اور ویتنام جیسے قریبی مقامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔مہمان نوازی کا شعبہ گھریلو سیاحت کی مضبوط طلب کے باعث اب بھی مستحکم ہے، لیکن توانائی کی بڑھتی لاگت، مہنگے خام مال اور بین الاقوامی طلب میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے منافع پر دباؤ برقرار ہے، خاص طور پر پریمیم اور کاروباری ہوٹلوں میں جو غیر ملکی سیاحوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
ریستوران اور فوڈ سروس سیکٹر میں بھی ملے جلے اثرات
ریستوران اور فوڈ سروس سیکٹر بھی ملے جلے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ صنعت کے اندازوں کے مطابق لاگت میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ درآمدی اشیا، لاجسٹکس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اہم سیاحتی مراکز میں پریمیم ریستورانوں میں غیر ملکی گاہکوں کی تعداد کم ہوئی ہے، تاہم گھریلو طلب اور فوڈ ڈیلیوری خدمات نے کچھ حد تک استحکام فراہم کیا ہے۔چیلنجز کے باوجود گھریلو سیاحت اب بھی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ ’ریوینج ٹریول‘، اسٹے کیشن، بزکیشن اور تجرباتی ڈائننگ جیسے رجحانات ہوٹلوں، ایئر لائنز اور ریستورانوں میں طلب کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کئی پالیسی تجاویز بھی دی گئی ہیں، جن میں بین الاقوامی فضائی راستوں میں تنوع، تنازع زدہ علاقوں پر انحصار کم کرنا، دو طرفہ فضائی معاہدوں کو بہتر بنانا اور ایوی ایشن فیول، مہمان نوازی اور فوڈ اینڈ بیوریج شعبوں پر ٹیکس میں نرمی شامل ہیں۔اس کے علاوہ رپورٹ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے، گھریلو سیاحتی سرکٹس کو فروغ دینے، ویزا نظام کو آسان بنانے اور نئے عالمی بازاروں میں سیاحتی تشہیر بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مغربی ایشیا کا تنازع اگرچہ قلیل مدتی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے، لیکن یہ بھارت کے لیے زیادہ مضبوط، متنوع اور خود کفیل سیاحتی نظام بنانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ مضبوط گھریلو بنیادوں اور حکومت و صنعت کے مشترکہ اقدامات سے بھارت کا سیاحت اور مہمان نوازی کا شعبہ طویل مدتی ترقی کے لیے تیار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…
اکھلیش یادو کی موجودگی میں لیڈروں کے درمیان تلخ کلامی اور گالی گلوچ، دونوں اضلاع…
دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد…
نابالغ لڑکے اور لڑکی سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر سیاست گرم، جے ڈی یو…
10 میٹر ایئر رائفل ٹیم مقابلے میں پارتھ مانے، ہمانشو ڈھلون اور رودرانکش پاٹل کی…
سوریا کمار یادو نے نوجوان بلے باز ویبھَو سوریہ ونشی کی تعریف کی، کہا- ان…