قومی

NIT Kurukshetra Student Suicide: 60 دن، 4 اموات: ناری شکتی وندن کے درمیان این آئی ٹی کروکشیتر میں ایک اور طالبہ نے لگائی پھانسی، طلبہ کے شدید احتجاج سے ہلا  انتظامیہ

ایک طرف پورا ملک ’ناری شکتی‘ کے احترام اور بیٹیوں کو بااختیار بنانے کی باتوں میں مصروف ہے، وہیں ہریانہ کے باوقار تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) کروکشیتر سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے سماج اور انتظامیہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ادارے کے گرلز ہاسٹل میں بی ٹیک سیکنڈ ایئر کی ایک طالبہ نے پھندا لگا کر اپنی جان دے دی۔ گزشتہ 60 دنوں کے دوران اس کیمپس میں یہ چوتھی خودکشی کا واقعہ ہے۔

ہاسٹل کے کمرے میں ملی لاش

موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبہ بی ٹیک کی پڑھائی کر رہی تھی اور جمعرات کی رات اس کی لاش ہاسٹل کے کمرے میں پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔ جیسے ہی ساتھی طالبات کو اس کی خبر ملی، پورے گرلز ہاسٹل میں کہرام مچ گیا۔ اطلاع ملتے ہی ادارے کی انتظامیہ اور پولیس موقع پر پہنچ گئی، لیکن تب تک طالبہ کی موت ہو چکی تھی۔ پولیس اور فرانزک ماہرین کی ٹیم نے کمرے کو سیل کر دیا ہے اور شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک نہ کوئی خودکشی نوٹ ملا ہے اور نہ ہی موت کی صحیح وجہ سامنے آئی ہے۔

آدھی رات کو سڑکوں پر نکلے طلبہ

طالبہ کی موت کی خبر پورے کیمپس میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں طلبہ و طالبات ہاسٹل سے باہر نکل آئے اور سڑکوں پر بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا۔ طلبہ کا غصہ اس بات پر تھا کہ گزشتہ دو مہینوں میں چار اموات ہونے کے باوجود انتظامیہ گہری نیند سوئی ہوئی ہے۔ طلبہ نے شدید نعرے بازی کی اور الزام لگایا کہ ادارے میں طلبہ کی ذہنی صحت اور سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ احتجاج اتنا بڑھ گیا کہ آدھی رات کے بعد بھی کیمپس میں کشیدگی برقرار رہی۔

کیا تعلیمی ادارے ’پریشر ککر‘ بن گئے ہیں؟

این آئی ٹی کروکشیتر میں مسلسل پیش آنے والے یہ واقعات کئی سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ کیا طلبہ پر پڑھائی کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں؟ یا پھر کیمپس کا ماحول ایسا ہے جہاں طلبہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں؟ طلبہ کا الزام ہے کہ انتظامیہ صرف رسمی کارروائی کرتی ہے اور عملی طور پر کاؤنسلنگ یا سپورٹ سسٹم کی شدید کمی ہے۔شدید احتجاج کے پیش نظر فی الحال کیمپس میں پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، لیکن ایک ابھرتی ہوئی طالبہ کا اس طرح دنیا سے چلے جانا ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ کے نعروں کے درمیان ایک تلخ حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Priyanka Chaturvedi Parents PM Modi Meet: شیوسینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی کے والد سے ملے پی ایم مودی، برج خطے پر لکھی کتاب خود وصول کی

پرینکا چترویدی نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اپنا ذاتی وعدہ پورا، والدین…

17 minutes ago

Indore Pandharinath Road Collapse: یہ اندور ہے! ’صاف ستھرے شہر‘ میں اچانک دھنس گئی سڑک، بن گیا8 سے 9 فٹ گہرا گڑھا

پنڈھری ناتھ علاقے میں بدریناتھ مندر اور تھانے کے سامنے پیش آیا واقعہ، کوئی جانی…

30 minutes ago

IPL 2027: آئی پی ایل 2027 سے قبل 5 بار کی چیمپئن ٹیم کا بڑا فیصلہ، ظہیر خان بنے چنئی سپر کنگز کے نئے ہیڈ کوچ

چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…

59 minutes ago