قومی

We have faith in PM Modi: ’’ملک میں کسی بھی طرح کی مشکل پیدا نہیں ہوگی‘‘ چراغ پاسوان کا وزیراعظم مودی پر مکمل اعتماد کا اظہار

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے اثرات جہاں عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں، وہیں بھارت کی داخلی سیاست میں بھی اس کا عکس نظر آ رہا ہے۔ اس دوران مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی طرح کی مشکل پیدا نہیں ہوگی۔ نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چراغ پاسوان نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن کو بھی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، یہ وقت سیاسی بیان بازی کا نہیں بلکہ قومی مفاد میں یکجہتی دکھانے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے پارلیمنٹ میں واضح کیا ہے کہ حکومت ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پر تنقید

چراغ پاسوان نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس وقت میں حکومت پر الزامات لگانا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق، اگر اپوزیشن ہر وقت تنقید ہی کرتی رہے گی تو یہ جمہوریت کے لیے درست طرز عمل نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے تمام ممکنہ چیلنجز کے لیے تیاری کر رکھی ہے اور وزیر اعظم نے راجیہ سبھا میں تفصیل سے بتایا ہے کہ توانائی، سپلائی چین اور مہنگائی جیسے مسائل سے کیسے نمٹا جائے گا۔

حکومت کی تیاریوں پر زور

مرکزی وزیر مملکت بی ایل ورما نے بھی حکومت کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے ایوان بالا میں خطاب کے دوران پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور کھاد جیسی ضروری اشیاء پر ممکنہ اثرات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جیسا کہ ماضی میں کووڈ جیسے بحران کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو ایسے اہم مواقع پر ایوان میں موجود رہنا چاہیے تھا تاکہ وہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ وہیں شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ ملند دیوڑا نے کہا کہ ان کی پارٹی مرکز کی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور وزیراعظم مودی نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

عالمی بحران اور بھارت کی حکمت عملی

مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عام شہریوں پر اس کا اثر کم سے کم ہو۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس بحران نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ عالمی چیلنجز کے دوران داخلی سیاست میں کس حد تک اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے، جو کسی بھی ملک کی پالیسی سازی کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

6 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

8 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

9 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

10 hours ago