قومی

Prime Minister Narendra Modi: خدمت کا جذبہ دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا ایک شلوک کیا شیئر

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سنسکرت شلوک شیئر کیا، جس کے ذریعے انہوں نے بے لوث خدمت اور عوامی فلاح کے جذبے کو اجاگر کیا۔ اس شلوک میں کہا گیا ہے کہ بغیر کسی ذاتی مفاد کے مسلسل عوامی فلاح اور خدمت کے کاموں میں مصروف رہنے سے انسان کو معاشرے میں عزت، شہرت اور نیک نامی حاصل ہوتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ایکس پر لکھا،

“नित्यं परिचरेच्चैव तद्वै सुकृतमुत्तमम्.कीर्तिं पुण्यं यशो लोकान् प्राप्स्यसे राजसत्तम

اس شلوک کا مفہوم ہے کہ انسان کو اپنے اندر خدمت کا جذبہ ہمیشہ قائم رکھنا چاہیے، کیونکہ خدمت کے کام میں خلوص اور وفاداری کے ساتھ مصروف رہنا ہی دنیا کا بہترین نیک عمل ہے۔ خدمت کے ذریعے انسان کو شہرت، نیک نامی، ثواب اور اعلیٰ مقام حاصل ہوتا ہے۔

مہابھارت کے شانتی پرب سے لیا گیا ہے شلوک

وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ سنسکرت شلوک مہابھارت کے شانتی پرب سے لیا گیا ہے۔ اس میں بے لوث خدمت، فرض شناسی اور نیک کردار کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ شلوک کا پیغام ہے کہ جب کوئی حکمراں یا عام انسان بغیر کسی ذاتی مفاد کے مسلسل عوامی فلاح اور خدمت کے کاموں میں مصروف رہتا ہے تو اسے معاشرے میں عزت، احترام اور دیرپا شہرت حاصل ہوتی ہے۔اس شلوک کا مفہوم ہے، ’’اے بادشاہوں میں بہترین! انسان کو روزانہ مکمل لگن کے ساتھ خدمت یعنی اپنے فرض کی ادائیگی کرنی چاہیے، کیونکہ یہی سب سے بہترین اور اعلیٰ نیک عمل ہے۔ ایسا کرنے سے انسان دنیا میں شہرت، ثواب، نیک نامی اور اعلیٰ مقام حاصل کرتا ہے۔‘‘

شلوک کا پیغام کیا ہے؟

اس سے ایک روز قبل منگل کو بھی وزیر اعظم مودی نے ایک سنسکرت شلوک ایکس پر شیئر کیا تھا۔ شلوک تھا،

“ज्ञानवांश्च तथा वाग्मी कर्मस्वपि च निष्ठितः. एवं युक्तोऽपि न श्रेयान् यदि शीलविवर्जितः॥”

اس کا مفہوم ہے کہ جو شخص علم رکھنے والا، اچھی گفتگو کرنے والا اور اپنے کام میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے کردار اور نیک سلوک کا حامل ہو، وہی حقیقت میں معاشرے میں بہترین انسان کہلاتا ہے۔یہ شلوک مہاراجہ بھوج کے مشہور علمِ تعمیر سے متعلق گرنتھ ’سمرَانگن سوتر دھار‘ کے 44ویں باب کا 16واں شلوک ہے۔ اس میں اچھے کردار اور نیک اخلاق کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ شلوک کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کوئی شخص چاہے کتنا ہی بڑا عالم، بہترین مقرر اور اپنے کام میں کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، اگر اس میں اچھا کردار اور نیک اخلاق نہیں ہیں تو اسے معاشرے میں قابل احترام یا فلاحی شخصیت نہیں سمجھا جا سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Tears in his eyes: آنکھوں میں آنسو، میسی کا ارجنٹینا کی جرسی میں الوداعی میچ کو دیا گیا دی لاسٹ ٹینگوکا نام

لیونل میسی نے ارجنٹینا کے لیے مجموعی طور پر 208 میچ کھیلے۔ اس دوران انہوں…

1 hour ago

Triple Murder in Dehradun: دہرادون میں ٹرپل مرڈر، بزرگ جوڑے اور ملازمہ کے قتل سے سنسنی، پولیس نے ایک مشتبہ شخص گرفتار

پولیس کے مطابق، موقع پر پہنچی فورنسک ٹیم نے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔…

2 hours ago

Tragedy in Vrindavan: ورنداون میں دردناک حادثہ،گروکل کے 4 طلبہ کی موت، ایک کی حالت تشویشناک

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ چندر پرکاش سنگھ اور ایس ایس پی موقع…

3 hours ago