سپریم کورٹ نے لوک سبھا اور اسمبلیوں میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے مخصوص انتخابی حلقوں میں ہر انتخاب کے بعد لازمی روٹیشن نافذ کرنے کی مانگ مسترد کردی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ مخصوص نشستوں کا تعین کرنا اور ان میں تبدیلی سے متعلق قواعد وضع کرنا پارلیمنٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ عدلیہ مقننہ کو اس سلسلے میں نیا قانون بنانے یا موجودہ قانون میں ترمیم کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں مداخلت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے درخواست گزار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی مانگ منتخب عوامی نمائندوں کے سامنے رکھیں اور قانون میں تبدیلی کے لیے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
تقریباً سات دہائیوں سے مخصوص کادی پور اسمبلی سیٹ کا معاملہ
یہ معاملہ اتر پردیش کے ضلع سلطان پور کے اسمبلی حلقہ 191-کادی پور سے متعلق ہے۔ درخواست گزار جگدیش سنگھ اسی حلقے کے ووٹر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کادی پور اسمبلی حلقہ قائم ہونے کے بعد سے تقریباً سات دہائیوں سے درج فہرست ذاتوں کے لیے مخصوص ہے۔ درخواست گزار نے دلیل دی تھی کہ کسی انتخابی حلقے کو مسلسل مخصوص رکھنے اور وہاں روٹیشن کا نظام نافذ نہ کرنے سے آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 19 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، اس صورت حال میں ووٹروں کو صرف ایس سی زمرے کے امیدواروں میں سے اپنا نمائندہ منتخب کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی، ریزرویشن کا فائدہ وسیع برادری کے بجائے چند خاندانوں تک محدود رہ جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں کی طرح لوک سبھا اور اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں پر بھی روٹیشن کا نظام نافذ کیا جائے۔
حد بندی قانون کی دفعہ 9(1)(c) کو بھی کیا تھا چیلنج
درخواست گزار نے حد بندی ایکٹ 2002 کی دفعہ 9(1)(c) کو بھی چیلنج کیا تھا۔ اس دفعہ کے تحت ایس سی اور ایس ٹی کے لیے مخصوص انتخابی حلقوں کا تعین ان علاقوں میں کیا جاتا ہے جہاں ان برادریوں کی آبادی کا تناسب نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس قانونی دفعہ کو درست قرار دیتے ہوئے مخصوص نشستوں پر روٹیشن نافذ کرنے کی ہدایت دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں پر روٹیشن نافذ کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے۔
سی جے آئی نے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کا دیا مشورہ
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے درخواست گزار سے کہا کہ انہوں نے غلط نمبر ملا دیا ہے۔ مخصوص نشستوں پر روٹیشن کی مانگ عدالت کے بجائے پارلیمنٹ کے سامنے اٹھائی جانی چاہیے۔ چیف جسٹس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ یہ احتجاج اور نعرے بازی کا اچھا وقت ہے۔ انہوں نے درخواست گزار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مطالبے کے حق میں منتخب عوامی نمائندوں سے رابطہ کریں اور قانون میں تبدیلی کے لیے حمایت حاصل کریں۔ عدالت نے اپنے حکم میں بھی کہا کہ درخواست گزار عوامی نمائندوں سے رجوع کرکے روٹیشن کے اصول کو نافذ کرنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس جوئے مالیا باگچی نے کہا کہ کثیر جماعتی جمہوریت میں ووٹروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذات یا مذہب کے بجائے سیاسی جماعتوں اور ان کے نظریات کی بنیاد پر ووٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی حلقے میں ایس سی آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے مخصوص رکھنے سے ذات پات کی بنیاد پر تقسیم پیدا ہوتی ہے یا نہیں، یہ مقننہ کے غور و خوض کا معاملہ ہے۔ صرف اس بنیاد پر کسی قانون کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جسٹس باگچی نے مزید کہا کہ کسی برادری کی آبادی زیادہ ہونے کا یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ ووٹر صرف اپنی ذات یا برادری کی بنیاد پر ہی ووٹ دیں گے۔ جمہوریت میں ووٹروں کی پسند کا فیصلہ عدالت نہیں کرسکتی۔
انتخاب لڑنے کا حق اور ووٹ دینے کا حق الگ الگ
سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران ووٹ دینے کے آئینی حق اور کسی مخصوص انتخابی حلقے سے الیکشن لڑنے کے دعوے کے درمیان فرق بھی واضح کیا۔ عدالت نے کہا کہ عام زمرے کے امیدواروں کے پاس غیر مخصوص انتخابی حلقوں سے الیکشن لڑنے کا متبادل موجود ہے۔ اس لیے کسی مخصوص نشست سے انتخاب لڑنے کے حق کو ووٹ دینے کے حق کے مساوی نہیں سمجھا جاسکتا۔ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 330 اور 332 یا حد بندی ایکٹ میں مخصوص نشستوں پر روٹیشن لازمی قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ ایسے میں عدالت اپنی طرف سے قانون میں روٹیشن کی شرط شامل نہیں کرسکتی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 330 اور 332 کے تحت لوک سبھا اور اسمبلیوں میں ایس سی-ایس ٹی کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد کا تعین کیا گیا ہے، جب کہ انتخابی حلقوں کی شناخت اور ان کے تعین کا عمل پارلیمنٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ سماجی اور سیاسی انصاف کو فروغ دینے کے نقطۂ نظر سے روٹیشن کا نظام بہتر ہوسکتا ہے۔ اس سے ان انتخابی حلقوں میں بھی ایس سی-ایس ٹی برادریوں کے امیدواروں کو انتخاب لڑنے کا موقع مل سکتا ہے جہاں ان کی آبادی نسبتاً کم ہے۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا تھا کہ ایسی پالیسی نافذ کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے اور عدلیہ قانون میں روٹیشن کی شق شامل کرنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ سپریم کورٹ نے بھی اسی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جمعرات کو بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ مہم کے پہلے مرحلے…
شوٹر سب سے پہلے رکشہ ڈرائیوروں اور دکانداروں سے ان کے یو پی آئی کیو…
چاؤڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب گلی ستارہ میں پیش آیا حادثہ، فائر بریگیڈ کی…
اس کا مفہوم ہے کہ خود شناسی کے ذریعے انسان اپنی حقیقی پہچان سے واقف…
بی جے پی کا مقصد اس مہم کے ذریعے عوام تک اپنا موقف پہنچانا اور…
گورکھپور دورے کے دوسرے دن مندر پہنچے نتن نبین، تنظیمی عہدیداروں اور سابق ارکان پارلیمنٹ…