اردو زبان و ادب کے عظیم اسکالر، محقق اور مترجم پروفیسر سی ایم نعیم کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کی وفات سے نہ صرف اردو ادب بلکہ عالمی علمی حلقوں میں بھی ایک کبھی نہ بھرنے والا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ پروفیسر سی ایم نعیم نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کے فروغ، تحقیق اور تعلیم کے لیے وقف کر دی تھی اور وہ اردو کے ایک بین الاقوامی سفیر کے طور پر جانے جاتے تھے۔
علمی سفر اور خدمات
پروفیسر سی ایم نعیم نے اپنی تعلیمی زندگی کا بڑا حصہ امریکہ کی معروف یونیورسٹی آف شکاگو میں گزارا، جہاں انھوں نے اردو اور جنوبی ایشیائی مطالعات کے شعبے میں تدریس اور تحقیق کی۔ انھوں نے اردو ادب کی کلاسیکی اور جدید تحریروں کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ ان کا انگریزی ترجمہ بھی کیا، جس سے اردو ادب عالمی سطح پر پہنچا۔
انھوں نے “Annual of Urdu Studies” کے بانی اور مدیر کی حیثیت سے اردو تحقیق کو ایک باوقار اور بین الاقوامی پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں اردو ادب، زبان اور ثقافت کے مختلف موضوعات پر تحقیقی مقالے شائع ہوتے رہے۔ ان کی تحریریں اردو زبان کے ساختیاتی پہلوؤں، ادبی تاریخ، اور زبان کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت پر گہری روشنی ڈالتی تھیں۔
اردو ادب اور زبان کے لیے نمایاں خدمات
پروفیسر نعیم کا شمار اردو ادب کے ان اسکالروں میں ہوتا ہے، جنھوں نے اردو کو صرف ایک زبان کے طور پر نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثے کے طور پر دیکھا۔ ان کی خدمات نے اردو کو عالمی ادب میں ایک ممتاز مقام دلایا۔ انھوں نے نہ صرف زبان کے قواعد و ضوابط کی وضاحت کی بلکہ اردو کی تاریخی ترقی اور اس کے سماجی پس منظر کو بھی تفصیل سے سمجھایا۔ سی ایم نعیم کی کاوشیں اردو زبان کے عالمی فہم اور اس کی ترویج میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
وفات پر ادبی و علمی حلقوں کے جذباتی تاثرات
پروفیسر نعیم کی وفات پر اردو کی مشہور ویب سائٹ ’’ریختہ‘‘نے کہا کہ اردو زبان و ادب نے ایک ایسی آواز کھو دی ہے جو بے مثال تھی۔ ان کی علمی دیانت اور اردو کے لیے انتھک محنت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ریختہ نے کہا کہ ’’پروفیسر سی ایم نعیم اردو ادب کے ایک ایسے مینار تھے جن کی خدمات اردو کو نئی بلندیوں تک لے گئیں۔‘‘
دریں اثنا اردو کے محقق اور استاد پروفیسر رشی کانت نے سی ایم نعیم کو نہ صرف ایک ماہر محقق بلکہ ایک اچھے استاد، رفیق اور رہنما قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’وہ ایک عظیم استاد، دوست اور ہم سفر تھے جنھوں نے اردو کے کئی شعبوں میں گہرا اثر چھوڑا۔‘‘ وہیں اردو کے معروف نقاد خالد علوی نے کہا کہ ’’نعیم صاحب ایسے شخص تھے جو اردو ادب کی وہ باتیں سامنے لاتے تھے جو عموماً نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ ان کے تجزیات نے اردو تحقیق کو نئی جہتیں دیں اور اس کے چھپے ہوئے گوشے اجاگر کیے۔‘‘
ایک علمی اور ادبی ورثہ جو ہمیشہ زندہ رہے گا
پروفیسر سی ایم نعیم کی علمی خدمات اردو زبان و ادب کے لیے ایک گراں قدر ورثہ ہیں۔ ان کی تحریریں، تحقیقی مقالے اور ترجمے اردو کے طالب علموں اور محققین کے لیے مشعل راہ کا کام کرتے رہیں گے۔ اردو کے فروغ اور عالمی شناخت میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ ان کا انتقال اردو ادب کی دنیا میں ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے، لیکن ان کی علمی میراث ہمیشہ زندہ رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…