قومی

Kejriwal supports the fight to save Anangpur village: ہریانہ کے اَنَنگ پور گاؤں کو بچانے کی لڑائی کو کیجریوال کی حمایت، 13 جولائی کو مہا پنچایت میں وفد بھیجے گی عام آدمی پارٹی

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (AAP) نے ہریانہ کے اَنَنگ پور گاؤں میں بی جے پی حکومت کی طرف سے انہدامی کارروائی کے خلاف 13 جولائی کو ہونے والی مہا پنچایت کی حمایت کی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھردواج نے جمعہ کے روز کہا کہ پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال اننگ پور گاؤں کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہوں نے عام آدمی پارٹی کی طرف سے مہا پنچایت میں ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی حکومت اس 1300 سال پرانے تاریخی گاؤں میں بلڈوزر چلا کر لوگوں کے مکانات گرا رہی ہے۔

1,300 سال پرانا ہے سورج کنڈ کا اننگ پور گاؤں

عام آدمی پارٹی لیڈر سوربھ بھردواج نے سابق ایم ایل اے برہما سنگھ تنور کے ساتھ کہا ہے کہ سورج کنڈ ضلع کا اننگ پور گاؤں 1,300 سال پرانا ہے۔ یہ دہلی کے قریب ایک گاؤں ہے اور اس کی بہت بڑی تاریخ بھی ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے یہاں حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ بلڈوزر لگا کر لوگوں کے گھر گرائے جا رہے ہیں۔

13 جولائی کو 36 برادریوں نے بلائی مہا پنچایت

سوربھ بھردواج نے کہا کہ آنے والے اتوار 13 جولائی کو اننگ پور کے لوگوں نے سَرو سماج کی 36 برادریوں کی مہا پنچایت بلائی ہے۔ اروند کیجریوال کی ہدایت پر ’عآپ‘ کا ایک وفد اننگ پور میں سرو سماج کی مہا پنچایت میں جائے گا اور مکمل تعاون کرے گا۔ انہوں نے AAP کارکنوں سمیت دہلی کے 360 گاؤں کے نوجوانوں سے کہا کہ اننگ پور گرجر برادری کا گاؤں ہے، لیکن یہ صرف گرجر برادری کا نہیں ہے، یہ پورے دیہات کا ہے۔ آج اننگ پور پر آفت ہے، کل دوسرے گاؤں پر بھی آئے گا۔ چاہے کوئی شخص گرجر، جاٹ، برہمن، جاٹو یا والمیکی برادری کا ہو، سب سے پہلے وہ گاؤں سے ہے۔ اپنے گاؤں کو بچانے کے لیے 13 جولائی کو اننگ پور کی مہا پنچایت میں حصہ لیں۔

حکومت کی انہدامی کارروائی کے خلاف مہا پنچایت

برہما سنگھ تنور نے کہا کہ 13 جولائی کو اننگ پور گاؤں میں بی جے پی حکومت انہدام کے خلاف مہا پنچایت منعقد کی جا رہی ہے۔ اس میں آس پاس کے اور دور دراز کے دیہاتوں، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، پنجاب اور جموں و کشمیر تک تمام برادریوں کے لوگ شرکت کریں گے۔ دہلی کے تمام گاؤں وہاں پہنچ جائیں گے۔ یہ چھوٹی لڑائی نہیں ہے۔ یہ لوگ پہاڑوں میں کیوں آباد ہوئے؟ آزادی کی جدوجہد میں انگریزوں کے مظالم کے خلاف جنگ کر کے پہاڑوں میں چھپ جاتے تھے۔ وہ وہیں آباد ہو گئے۔ جنہوں نے ملک کے لیے قربانیاں دیں، ان کی زمین کو رج میں ڈال کر حکومت نے قبضہ کر کے کالونیاں بنا دیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

9 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

10 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

10 hours ago