نئی دہلی/لکھنؤ: راجیہ سبھا کے رکن اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے ایوان بالا میں صفر وقفہ کے دوران ملک میں بڑھتی ہوئی آبی بحران کو ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ملک بھر میں واٹر آڈٹ کو نافذ کیا جائے تاکہ پانی کی دستیابی، ضرورت اور اس کے انتظام کا سائنسی بنیادوں پر درست اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا بحران اب صرف موسمی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک بڑے ماحولیاتی، سماجی اور پالیسی سطح کے بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ ملک کی معیشت اور سماجی ترقی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، ویسے ویسے ملک کے مختلف حصوں میں پانی کی قلت بھی بڑھنے لگتی ہے، جس کے اثرات کسانوں، ماحولیات اور عام شہریوں پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر شرما نے کہا کہ ملک میں زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس وقت زیر زمین پانی کے استعمال کی رفتار اس کی قدرتی بحالی کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے، جو مستقبل میں ایک بڑے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کسانوں کو آبپاشی کے لیے گہرے بورویل کھودنے کے باوجود مناسب مقدار میں پانی حاصل نہیں ہو پا رہا، جو تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے معروف شاعر عبد الرحیم خان خاناں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “رحیمن پانی راکھیے، بن پانی سب سون” اور یہ اشعار موجودہ حالات کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے شہروں میں پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے، خاص طور پر گرمیوں میں لوگوں کو پانی کے حصول کے لیے اضافی وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر شرما نے ٹینکر مافیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ کئی علاقوں میں یہ گروہ پانی کی قلت کا فائدہ اٹھا کر عوام کا معاشی استحصال کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی کی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
انہوں نے اس بحران کے حل کے لیے چار اہم تجاویز پیش کیں۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ پانی کی تقسیم کے نظام کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جائے اور ٹینکر مافیا پر قابو پایا جائے۔ دوسری اہم تجویز کے طور پر انہوں نے بارش کے پانی کے ذخیرے کو لازمی اور مؤثر بنانے پر زور دیا تاکہ زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری لائی جا سکے۔ تیسری تجویز میں انہوں نے ضلعی سطح پر واٹر آڈٹ نظام نافذ کرنے کی بات کہی، جس سے پانی کے وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ چوتھی تجویز کے طور پر انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان پانی کے تنازعات کے حل کے لیے مرکزی حکومت کی نگرانی میں ایک مؤثر نظام قائم کیا جائے تاکہ ان مسائل کا بروقت اور منصفانہ حل ممکن ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…