ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ اشتعال انگیز سرگرمیوں کو روکنا ناگزیر ہے۔ یہ مؤقف بھارت میں قائم ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں سامنے آیا، جس میں ایرانی وزارت خارجہ کے خیالات کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔ بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ایک ذمہ دار ملک کے طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی پاسداری کرتا رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایران نے خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان سمیت پورے خطے میں سمندری سلامتی اور بین الاقوامی اصولوں کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ ان آبی راستوں سے گزرنے کے اصولوں کا حقیقی احترام اسی صورت ممکن ہے جب ساحلی ممالک کی خودمختاری اور ان کے حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق کسی بھی اقدام یا انتظام کو ایران کے حقوق اور مفادات کا مکمل احترام کرتے ہوئے نافذ کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات متعلقہ ایرانی حکام کے ساتھ ہم آہنگی اور خطے میں جاری کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جانے چاہئیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی اور مستقل استحکام کی بحالی کے لیے فوجی حملوں اور دھمکیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ایران نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری سرگرمیاں خطے میں عدم استحکام کو ہوا دے رہی ہیں، لہٰذا ان کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ ایران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کے جائز مفادات کا مکمل احترام کیا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے مبینہ فوجی حملے کو اقوام متحدہ چارٹر کی شق 2(4) کی خلاف ورزی قرار دیا، جو طاقت کے استعمال پر پابندی عائد کرتی ہے۔ ایران کے مطابق اس حملے کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی، جس کے اثرات براہ راست سمندری نقل و حمل اور جہاز رانی کی سلامتی پر مرتب ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے ایسے اقدامات بھی کیے تاکہ حملہ آور ممالک اور ان کے حامی آبنائے ہرمز کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ ایران نے بطور ساحلی ملک اپنے بین الاقوامی حقوق کے تحت ان جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کی جو ان حملوں میں ملوث تھے یا ان سے وابستہ تھے۔ ایرانی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات جاری رکھے گی، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ بیرونی مداخلت اور فوجی دباؤ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ اہم عالمی بحری گزرگاہ محفوظ رہ سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…