بھارت کی زندگی کی لکیر سمجھی جانے والی دریائے گنگا پر اس وقت خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دریائے گنگابیسن نے گزشتہ 1300 برسوں میں سب سے زیادہ شدید خشک سالی کا سامنا کیا ہے۔ یہ خشک سالی 1991 سے 2020 کے درمیان ریکارڈ کی گئی، جو شدت کے لحاظ سے ماضی کے کسی بھی دور سے تقریباً 76 فیصد زیادہ سنگین ثابت ہوئی ہے۔
گنگا کی ابتدا اور بہاؤ
دریائے گنگا ہمالیہ سے نکلنے والا بھارت کا سب سے اہم دریا ہے۔ اس کا بنیادی ماخذ گنگوتری گلیشیئر ہے، جہاں سے نکلنے والی بھگیرتھی ندی کو گنگا کا ابتدائی دھارا مانا جاتا ہے۔ گومکھ وہ مقام ہے جہاں سے گنگا کی اصل شروعات تصور کی جاتی ہے۔ آگے چل کر بھگیرتھی ندی اور الکنندا ندی دیوپریاگ میں آپس میں ملتی ہیں، اور یہیں سے گنگا کا مرکزی بہاؤ شروع ہوتا ہے۔دریا ئے گنگا کی کل لمبائی تقریباً 2525 کلومیٹر ہے۔ یہ اتراکھنڈ سے نکل کر اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال سے گزرتی ہے۔ آخر میں یہ دریا بنگلہ دیش میں داخل ہو کر ’پدما‘ کے نام سے بہتا ہے اور برہم پتر دریا اور دریا ئےمیگھنا کے ساتھ مل کر خلیج بنگال میں جا گرتا ہے۔
گنگا میں شامل دریا اور خشک سالی کی سنگین صورتحال
دریائے گنگابیسن میں کئی بڑی ندیاں شامل ہیں جو اسے پانی فراہم کرتی ہیں۔ دائیں کنارے کی اہم معاون ندیوں میں دریائے یمنا، ٹونس ندی، سون ندی، پُنپُن ندی، فلگو ندی، کیول ندی، اجے ندی اور دامودر ندی شامل ہیں۔ بائیں کنارے کی بڑی ندیوں میں رام گنگا، گومتی ندی، گھاگھرا ندی، گنڈک ندی، کوسی ندی اور مہانندا ندی شامل ہیں۔ یہ تمام ندیاں مل کر گنگا کو پانی فراہم کرتی ہیں، اور یہی نظام بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش کے 60 کروڑ سے زائد لوگوں کی زندگی کا سہارا ہے۔
خشک سالی کی خوفناک صورتحال
تحقیق کے مطابق 1991 سے 2020 کے دوران دریائے گنگا میں خشک سالی کے ادوار نہ صرف زیادہ بلکہ طویل بھی رہے۔ اس عرصے میں چار ایسے شدید خشک سالی کے دور آئے جو تین سال سے زائد جاری رہے، جبکہ ماضی میں اس نوعیت کی طویل خشک سالی عموماً 70 سے 200 سال میں ایک بار دیکھنے کو ملتی تھی۔ خاص طور پر 2004 سے 2010 کے درمیان آنے والی خشک سالی کو گزشتہ 1000 سال میں سب سے بدترین قرار دیا گیا ہے، جبکہ 1991 سے 1997 کا دور دوسرا سب سے سنگین رہا۔ ماہرین کے مطابق 1991 کے بعد سے دریا کے اوسط بہاؤ میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، اور ہر سیکنڈ تقریباً 620 کیوبک میٹر پانی کم بہہ رہا ہے، جو مستقبل کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔
دریائی بیسن میں خشک سالی کی وجوہات
آئی آئی ٹی گاندھی نگر اور یونیورسٹی آف ایریزونا کے سائنسدانوں کے مطابق دریائے گنگابیسن میں پیدا ہونے والی خشک سالی صرف قدرتی نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں کا بھی بڑا نتیجہ ہے۔ کمزور مانسون کے باعث بارش میں کمی آ رہی ہے، جبکہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت پانی کے تیزی سے بخارات بننے کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔
خشک سالی کے اثرات اور بڑھتا ہوا خطرہ
دریائے گنگا کے بیسن میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے۔ سنگم، پریاگ راج پر پانی کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انہوں نے PM سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کے ذریعے گھروں کی چھتوں پر سولر…
2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…