پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کیے جانے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اوقاف سے متعلق جو بل پیش کیا جا رہا ہے، وہ غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت اپنی تعداد کی برتری کے بل پر اسے منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل غیر جمہوری و غیر آئینی ہے۔ اس بل کو زبردستی ایوان میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد اقلیتیوں کے حقوق کو غصب کرنا ہے، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔
بل ناقابل قبول، مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں پرانے قانون میں بہتری کی ضرورت تھی۔ مگر اس کے برعکس، حکومت نے ایسی ترامیم متعارف کرائی ہیں جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ بطور اقلیت، میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بل ناقابل قبول ہے، اور ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اس کے خلاف لڑائی جاری رہے گی اور ہم ہر قانونی اور پرامن طریقے سے اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
یہ ایوارڈ محکمہ خواتین کو بااختیار بنانے اور اطفال کی ترقی کی جانب سے مالی…
سی بی ایس ای نے 10ویں اور12ویں بورڈ امتحان 2027 کی ڈیٹ شیٹ جاری کردی…
سپریم کورٹ نے کانگریس کی کیرالہ یونٹ کے عہدیداروں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری…
وزیر داخلہ نے ریاست کے یومِ تاسیس کی تقریب میں 63 منصوبوں کا افتتاح کیا…
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے حکام کوسخت نگرانی برقراررکھنے کی بھی ہدایت…
ادت راج نے کہا کہ جنگِ آزادی میں 61 ہزار مسلمانوں اور 8 ہزار سکھوں…