پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کیے جانے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اوقاف سے متعلق جو بل پیش کیا جا رہا ہے، وہ غیر آئینی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت اپنی تعداد کی برتری کے بل پر اسے منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل غیر جمہوری و غیر آئینی ہے۔ اس بل کو زبردستی ایوان میں لایا گیا ہے، جس کا مقصد اقلیتیوں کے حقوق کو غصب کرنا ہے، جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔
بل ناقابل قبول، مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں پرانے قانون میں بہتری کی ضرورت تھی۔ مگر اس کے برعکس، حکومت نے ایسی ترامیم متعارف کرائی ہیں جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ بطور اقلیت، میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بل ناقابل قبول ہے، اور ہم اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اس کے خلاف لڑائی جاری رہے گی اور ہم ہر قانونی اور پرامن طریقے سے اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے سرکاری ایکس ہینڈل پرایک خصوصی ویڈیو گرافک شیئر…
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اتوار کے روز…
پولیس وین میں بیٹھنے سے پہلے عمران خان نے احتجاج میں شرکت کی وجہ بھی…
تقریباً 10 سال تک ٹیلی ویژن سے دور رہنے کے بعد کانچی کول کی واپسی…
افغانستان نے اپنے آخری چھ وکٹیں صرف 29 رنز کے اضافے پر گنوا دیں۔ افغانستان…
عدالت نے کہا کہ سوربھ بھاردواج کی پوسٹس اور ویڈیوز کو الگ الگ حصوں میں…