گدالور (تمل ناڈو): کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے منگل کے روز کہا کہ وہ ایسے بھارت کی تعمیر میں مدد کرنا چاہتے ہیں جہاں شہری ایک دوسرے کی زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کا احترام کریں۔ انہوں نے یہ بات تمل ناڈو کے گدالور میں سینٹ تھامس انگلش ہائی اسکول کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کے دوران کہی۔
تعلیم کا مقصد: معلومات کو علم اور حکمت میں بدلنا
راہل گاندھی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، آئی ٹی اور ڈیٹا کے اس دور میں معلومات ہر جگہ دستیاب ہیں، مگر اسکولوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ معلومات کو علم اور اس سے بھی بڑھ کر حکمت میں تبدیل کرنے والے انسان تیار کریں۔ انہوں نے کہا: ’’ہم روزانہ آئی ٹی انقلاب، اے آئی اور ڈیٹا کے بارے میں سنتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ معلومات کا دور ہے، جہاں معلومات آزادانہ طور پر دستیاب ہیں۔ لیکن ایسے اسکولوں کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ تیار کریں جو معلومات کو دیکھ سکیں، اسے علم میں بدلیں اور سب سے اہم بات یہ کہ حکمت کے ساتھ برتاؤ کریں۔‘‘
حکمت کے بغیر معلومات خطرناک ہو سکتی ہیں
راہل گاندھی نے اسکولوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر معلومات کے اس دور میں حکمت نہ ہو تو دنیا ایک ناخوشگوار جگہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’اگر ہمارے پاس حکمت نہ ہو اور ہم صرف معلومات کے پیچھے بھاگتے رہیں تو دنیا بہت بری جگہ بن جائے گی۔ اسی لیے ایسے اسکولوں کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ یہ نوجوان طلبہ کو دانا شہری بناتے ہیں۔‘‘
محبت، سماعت اور احترام: میری جدوجہد
راہل گاندھی نے طلبہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے طلبہ سے پوچھا کہ وہ ایک استاد کو اچھا استاد کیوں سمجھتے ہیں، تو جواب ملا کہ وہ ہمیں سنتی ہیں اور محبت و شفقت سے پیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہی میری جدوجہد ہے۔ میں ایسا بھارت بنانے میں مدد کرنا چاہتا ہوں جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مہربان ہوں، ایک دوسرے کی بات سنیں اور ایک دوسرے کی زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کا احترام کریں۔‘‘
عاجزی سب سے اہم قدر
راہل گاندھی نے طلبہ اور سیاست دانوں دونوں کو عاجزی اپنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا: ’’میں نے یہاں طلبہ سے پوچھا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں، کسی نے ڈاکٹر بننے کی بات کی، کسی نے فضائیہ میں پائلٹ بننے کی، مگر کسی نے سیاست دان بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔ اپنے 20 سالہ سیاسی تجربے میں میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سیاست دان، طالب علم یا استاد سب کے لیے سب سے اہم قدر عاجزی ہے۔‘‘
تمل ناڈو کی سیاست کا پس منظر
راہل گاندھی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب تمل ناڈو میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے باعث سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ریاست میں حکمراں ڈی ایم کے-کانگریس اتحاد، بی جے پی-اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد اور نوآموز اداکار سے سیاست دان بننے والے وجے کی پارٹی تملگا ویٹری کزگم (TVK) کے درمیان سہ رخی مقابلہ متوقع ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی 23 جنوری کو تمل ناڈو کے دورے پر جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…