قومی

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

منی پور کے پہاڑی اضلاع میں تشدد تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کامجونگ، کانگ پوکپی اور اُکھرول میں حالیہ واقعات کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔ حالات کے پیش نظر انتظامیہ اور سکیورٹی ایجنسیاں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ ریاستی حکومت نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کا تشدد اور بے قصور لوگوں کا قتل قابل قبول نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے افسران کو واضح ہدایات دی ہیں کہ حالات کو جلد قابو میں کیا جائے اور امن و قانون بحال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے تمام برادریوں سے بات چیت، بھائی چارے اور صبر و تحمل کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔

تین اضلاع میں تشدد کے سب سے زیادہ واقعات

حالیہ دنوں میں تشدد کے زیادہ تر واقعات کامجونگ، اُکھرول اور کانگ پوکپی اضلاع میں پیش آئے ہیں۔ جمعہ اور ہفتہ کے دوران ان علاقوں میں کئی حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں متعدد افراد کی جان چلی گئی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کامجونگ ضلع انتظامیہ نے بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت پابندی کے احکامات نافذ کر دیے ہیں۔ حساس دیہات اور دیگر متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ کا بیان

وزیر اعلیٰ کھیم چند سنگھ نے سوشل میڈیا پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے قصور شہریوں کا قتل انتہائی افسوس ناک ہے اور اس کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ افسران کو فوری کارروائی کرنے، تشدد روکنے، امن بحال کرنے اور تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں تمام برادریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو ترجیح دینی چاہیے۔

افسران کے مطابق تشدد سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ خاص طور پر کانگ پوکپی اور کامجونگ اضلاع میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ متعدد حساس مقامات پر جوانوں کو تعینات کرنے کے ساتھ مسلسل گشت بھی کیا جا رہا ہے، تاکہ کسی نئے واقعے کو روکا جا سکے۔

پانچ بچوں کی ماں کے قتل کے بعد تشدد میں اضافہ

جمعہ کی رات پیش آنے والے ایک بڑے واقعے کے بعد تشدد میں مزید شدت آ گئی۔ ناگا اکثریتی ضلع کامجونگ کے کوکی اکثریتی گاؤں چساد میں نامعلوم حملہ آوروں نے پانچ بچوں کی 22 سالہ ماں کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد کوکی اور ناگا مسلح گروپوں کے درمیان فائرنگ شروع ہو گئی، جو ہفتہ کی صبح تک جاری رہی۔ اس جھڑپ میں 42 سالہ ایک شخص کی بھی موت ہو گئی۔ اس کے علاوہ 10 مکانات کو آگ لگا دی گئی۔ حالات مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے گاؤں میں بی این ایس ایس کی دفعہ 162 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے۔

کانگ پوکپی میں حملوں کے دوران تین افراد ہلاک

افسران نے بتایا کہ چساد واقعے کے بعد ہفتہ کو کانگ پوکپی ضلع کے تاپن اور مکوی گاؤں میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے حملہ کیا۔ اس دوران ناگا برادری کے دو گاؤں کے محافظوں، ایم دیمائی اور آر گنگمئی، کی موت ہو گئی۔ ان کے علاوہ رنگ کانگمئی نامی ایک اور شخص بھی ہلاک ہو گیا۔ دوسری جانب ناگا برادری کی تنظیم ورکنگ کمیٹی جے ٹی سی منی پور نے دعویٰ کیا کہ 52 سالہ دیہاتی اجنباؤ آر کا سر قلم کر دیا گیا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ان کا کٹا ہوا سر واپس کیا جائے۔

افسران کے مطابق ہفتہ کو کچھ مشتبہ عسکریت پسند بھارت اور میانمار کی سرحد کے قریب واقع ننگچاؤ گاؤں میں بھی پہنچے۔ یہ بستی تانگ کھول ناگا برادری کی ہے۔ یہاں فائرنگ کے دوران 35 سالہ نگاچانسو ننگشین اور 48 سالہ لیشیشان لیشادانگ کی موت ہو گئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد ملزمان سرحد پار کرکے میانمار کی جانب فرار ہو گئے۔

اُکھرول میں کار پر فائرنگ، ایک شخص ہلاک

اُکھرول ضلع میں بھی ہفتہ کو تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ چیپو یاؤلین گاؤں کے قریب مشتبہ عسکریت پسندوں نے ایک کار پر فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں 40 سالہ سندیپ رائے کی موت ہو گئی۔ افسران نے بتایا کہ سندیپ کار چلا رہے تھے اور گولی لگنے سے گاڑی کے اندر ہی ان کی جان چلی گئی۔ اس کے علاوہ کانگ پوکپی ضلع کے مکوی آشنگ اور تاپن علاقوں میں بھی مسلح گروپوں کے درمیان شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

فروری سے اب تک 40 سے زیادہ افراد کی موت

منی پور میں رواں سال فروری سے کوکی اور ناگا قبائلی برادریوں کے درمیان مسلسل کشیدگی برقرار ہے۔ اس دوران پیش آنے والے تشدد کے واقعات میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں مکانات کو آگ کے حوالے کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ریاست میں امپھال وادی کے میتی برادری اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والی کوکی برادری کے درمیان بھی بڑے پیمانے پر نسلی تشدد ہوا تھا، جس میں سیکڑوں افراد کی جانیں گئی تھیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر سکیورٹی ایجنسیاں چوکس ہیں اور کسی بھی نئے تشدد کو روکنے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی…

24 minutes ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

53 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: طاقت، ضبط اور خدمت کا پیغام دیتی ہے، امت شاہ نے شاردیہ نوراتری پر ملک کے تمام شہریوں کو پیش کی دلی مبارک باد

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے سرکاری ایکس ہینڈل پرایک خصوصی ویڈیو گرافک شیئر…

2 hours ago