بین الاقوامی

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں مسلسل بڑھتی کشیدگی اور جنگ جیسے حالات نے دنیا کی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تجارت اور ترقی سے متعلق ادارے انکٹاڈ (UNCTAD) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے باعث 2026 میں عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کم ہو کر 2.6 فیصد رہ سکتی ہے۔ تاہم، اس عالمی بحران کے باوجود بھارت کی معیشت 7.3 فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کا اندازہ ہے، جس سے عالمی اقتصادی ترقی میں ایشیا کا اہم کردار برقرار رہنے کی توقع ہے۔انکٹاڈ کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ایشیا کے بحران اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ ان عالمی خطرات کے باوجود ایشیائی ممالک عالمی اقتصادی ترقی کو سہارا دیں گے، جن میں بھارت سب سے آگے رہنے کی توقع ہے۔

توانائی بحران سے سست پڑ سکتی ہے دنیا کی رفتار

اقوام متحدہ کے ادارے انکٹاڈ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، مغربی ایشیا میں جاری تنازع کا براہ راست اثر عالمی توانائی بازار پر پڑ رہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت بڑھنے اور مہنگائی میں شدت آنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ عالمی اقتصادی ترقی کی شرح گزشتہ سال کے 2.9 فیصد سے گھٹ کر 2026 میں 2.6 فیصد رہ سکتی ہے۔ تاہم، توانائی کی بلند قیمتوں کے باوجود عالمی تجارت میں 4 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

بحران کے باوجود بھارت کی تیز رفتار ترقی برقرار رہنے کا امکان

عالمی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور اقتصادی خطرات کے باوجود ایشیائی ممالک کا عالمی معیشت میں اہم کردار برقرار رہنے کی توقع ہے۔ انکٹاڈ کے مطابق، 2026 میں عالمی اقتصادی ترقی میں ایشیا کا حصہ 59 فیصد رہ سکتا ہے۔رپورٹ کی اہم بات یہ ہے کہ بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح 7.3 فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جو زیرِ ذکر ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں چین کی ترقی کی شرح 4.5 فیصد اور انڈونیشیا کی 5.2 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان تجارت کا حساب بگڑا

رپورٹ میں امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، 2024 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں 20 فیصد سے زیادہ کی کمی درج کی گئی ہے۔ تاہم، مشرقی ایشیا نے ان دونوں بڑی معیشتوں کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو وسعت دی ہے۔ نئی پابندیوں اور سپلائی چین کی پیچیدگیوں کے باعث نئی کمپنیوں کے لیے عالمی بازار میں اپنی جگہ بنانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور مالی استحکام کے حوالے سے بھی انتباہ

توانائی کی قیمتوں کے علاوہ انکٹاڈ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات عالمی تجارت کے اہم محرک بن رہے ہیں، لیکن ان کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت مالی استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بازار کا ارتکاز چند منتخب کمپنیوں تک محدود ہوتا جا رہا ہے، جو عالمی معیشت میں مسابقت اور توازن کے حوالے سے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔مجموعی طور پر مغربی ایشیا کا بحران، توانائی کی بڑھتی قیمتیں، تجارتی کشیدگی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں 2026 میں عالمی معیشت کے لیے اہم چیلنجز بن سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں بھارت سمیت ایشیائی ممالک کی اقتصادی کارکردگی عالمی ترقی کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار…

50 minutes ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

1 hour ago

Union Home Minister Amit Shah: طاقت، ضبط اور خدمت کا پیغام دیتی ہے، امت شاہ نے شاردیہ نوراتری پر ملک کے تمام شہریوں کو پیش کی دلی مبارک باد

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے سرکاری ایکس ہینڈل پرایک خصوصی ویڈیو گرافک شیئر…

2 hours ago