قومی

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

اتر پردیش کے لکھنؤ میں واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں اتوار کو اس وقت ماحول کشیدہ ہوگیا جب پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کے درمیان شدید تنازع سامنے آیا۔ دراصل، اتر پردیش کانگریس کی نئی ریاستی صدر آرادھنا مشرا مونا اور کارگزار صدر عمران مسعود کے عہدہ سنبھالنے کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ اسی دوران خاتون ریاستی صدر اور کونسلر ممتا چودھری کے حامیوں اور سابق ریاستی صدر اجے رائے کے حامیوں کے درمیان تنازع شروع ہوگیا۔

اجے رائے کے پہنچتے ہی شروع ہوا ہنگامہ

بتایا جا رہا ہے کہ جیسے ہی اجے رائے کانگریس ہیڈکوارٹر پہنچے، اسی وقت تنازع شروع ہوگیا۔ اجے رائے کے حامیوں کا الزام ہے کہ ممتا چودھری کی جانب سے ان کے رہنما کے لیے قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے۔ اس بات سے ناراض اجے رائے کے حامیوں نے زبردست احتجاج شروع کردیا۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ کچھ حامی ہاتھوں میں جوتے لے کر نعرے بازی کرتے ہوئے نظر آئے۔

سینئر لیڈروں سے کی گئی شکایت

واقعے کے بعد اجے رائے نے پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری، ریاستی صدر آرادھنا مشرا مونا اور کارگزار صدر عمران مسعود کے سامنے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رویے سے پارٹی کی شبیہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اجے رائے کا کہنا تھا کہ اگر ایسے لوگ تنظیم میں برقرار رہیں گے تو پارٹی کا ماحول خراب ہوگا۔ انہوں نے ممتا چودھری کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ذرائع کے مطابق، انہیں معاملے میں مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ایک سوال سے شروع ہوا پورا تنازع

عینی شاہدین کے مطابق، اجے رائے اپنے حامیوں کے ساتھ تقریب کے مقام پر پہنچے تھے۔ بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے حامی لوگوں سے راستہ خالی کرنے کی اپیل کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے کہا، ’’صدر جی نکلیں گے، راستہ دے دیجیے۔‘‘

بتایا جاتا ہے کہ اس پر ممتا چودھری کی جانب سے سوال کیا گیا کہ ’’کون صدر؟‘‘ اسی بات کو لے کر دونوں فریقوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تنازع بڑھتا چلا گیا اور ماحول کشیدہ ہوگیا۔

مارپیٹ اور جوتا پھینکے جانے کی بھی بحث

موقع پر موجود لوگوں کے مطابق، تلخ کلامی جلد ہی جھڑپ میں تبدیل ہوگئی۔ دونوں گروپوں کے حامیوں کے درمیان دھکا مکی اور مارپیٹ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، جوتا پھینکے جانے کی بات بھی زیر بحث رہی۔تقریب کے دوران ہونے والے اس ہنگامے نے کانگریس تنظیم کے اندر جاری اختلافات کو ایک بار پھر منظر عام پر لا دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Prime Minister Modi extended his best wishes: کرناٹک اور کیرالہ کے یوم تاسیس پر وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امت شاہ سمیت کئی مرکزی رہنماؤں کی مبارک باد

وزیراعظم مودی نے کرناٹک اور کیرالہ ریاستوں کی ثقافتی وراثت اور ترقیاتی کامیابیوں کو سراہا۔…

1 hour ago

Germany’s Gen Z Protests: فرانس کے بعد جرمنی میں بھی جن زی مظاہرین کا تشدد، دکانوں میں لوٹ مار اور آگ زنی

سربیا میں طلبہ ایک طویل عرصے سے اقتدار میں موجود لیڈروں کو ہٹانے کی کوششوں…

1 hour ago

Ujjain Hotel Incident: مدھیہ پردیش کے اجین میں بڑا حادثہ، ہوٹل کے چیمبر میں دم گھٹنے سے 4 افراد کی موت

چیمبر میں گیس کا اخراج ہونے کے باعث تمام افراد بے ہوش ہوگئے۔ واقعے کی…

2 hours ago