قومی

Fresh Violence Erupted In Assam: آسام میں حالات کشیدہ، دو افراد ہلاک، درجنوں زخمی، انٹرنیٹ خدمات معطل

آسام کے کاربی آنگلونگ ضلع میں زمین خالی کرانے کو لے کر کافی عرصے سے چل رہا تنازع منگل کو اچانک تشدد میں تبدیل ہو گیا، جس کے نتیجے میں دو افراد کی موت ہو گئی جبکہ کم از کم 45 افراد زخمی ہو گئے، جن میں بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے۔ حالات بگڑنے پر ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر انٹرنیٹ خدمات معطل کر دیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت پابندیاں نافذ کر دیں۔ پولیس حکام کے مطابق تشدد کا آغاز کھیرونی اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے ہوا، جہاں مظاہرین کے دو گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مشتعل ہجوم نے کئی گھروں، دکانوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ بعد ازاں ہجوم ڈونگکاموکام کی طرف بڑھا، جہاں کاربی آنگلونگ خود مختار کونسل (کے اے اے سی) کے چیف ایگزیکٹو ممبر تلی رام رونگ ہانگ کے آبائی مکان کو آگ لگا دی گئی، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

جھڑپوں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس کے مطابق کم از کم دو شہری ہلاک جبکہ 45 افراد زخمی ہوئے، جن میں 38 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ تشدد ولیج گریسنگ ریزرو (وی جی آر) اور پروفیشنل گریسنگ ریزرو (پی جی آر) کی زمینوں سے مبینہ تجاوزات ہٹانے کے مطالبے کے پس منظر میں ہوا۔ یہ زمینیں آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت محفوظ کی گئی ہیں تاکہ قبائلی برادریوں کے زمین کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ان محفوظ علاقوں پر بڑے پیمانے پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب 9 مظاہرین کو بھوک ہڑتال کے دوران طبی علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس عمل کو بعض حلقوں نے گرفتاری قرار دے کر افواہیں پھیلا دیں، جس سے عوامی غصہ بھڑک اٹھا اور بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ کر دی ہے۔ اس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، ریلیوں، مشعل جلوسوں اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شام پانچ بجے سے صبح چھ بجے تک عوامی نقل و حرکت پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔

آسام حکومت نے افواہوں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر بند کر دی ہیں، تاہم وائس کال اور فکسڈ لائن براڈبینڈ خدمات جاری رکھی گئی ہیں۔ پولیس کے انسپکٹر جنرل اکھلیش کمار سنگھ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے اپنی شکایات قانونی طریقوں سے درج کرائیں۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ زمین تنازع گوہاٹی ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے، جس نے فی الحال تجاوزات ہٹانے کی کارروائی پر روک لگا رکھی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

7 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

8 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

8 hours ago