قومی

Casteism: دوسری ذات میں شادی کرنے والی خاتون کانسٹیبل کے والدین پر گاؤں والوں نے عائد کیا 20 لاکھ کا جرمانہ، اترپردیش کا ایک حیران کن واقعہ، جانیے پورا معاملہ

اترپردیش کے بندیل کھنڈ علاقے کے جھانسی ضلع کے بچیدا گاؤں میں، ایک لیڈی کانسٹیبل، جو کہ یادو ذات سے تعلق رکھتی ہے، اس وقت مشکل میں پڑ گئی جب اس نے اپنے بچپن کے دوست اور پٹیل ذات سے تعلق رکھنے والے انسپکٹر سے شادی کر لی۔ اگرچہ دونوں خاندانوں نے ان کی شادی کی حمایت کی اور 30 ​​اپریل کو شادی مکمل ہوئی، لیکن دوسری ذات میں رشتے کی وجہ سے گاؤں والوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے ان کا بائیکاٹ کر دیا۔

پنچایت نے لگایا بھاری جرمانہ، کیا سماجی بائیکاٹ کا اعلان

گاؤں والے اس شادی پر اتنے مشتعل ہوئے کہ 13 مئی کو گاؤں کی پنچایت بلائی گئی اور اس نے اس شادی کو ناقابل قبول قرار دیا۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ بند کمرے کی میٹنگ میں گاؤں کے بزرگوں بشمول گاؤں کے سربراہ نے خاتون کے خاندان پر سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے 20 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جو بھی لڑکی کے اہل خانہ سے بات کرے گا یا لین دین کرے گا اس پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

خاتون کانسٹیبل کے والدین کی ہوئی حالت خراب

پنچایت کے حکم کے بعد خاندان کے سماجی بائیکاٹ کے نتیجے میں، خاتون کے والدین نے، جو ایک چھوٹا ڈیری کاروبار چلاتے ہیں، کہا کہ ان کا کام ٹھپ ہو گیا ہے۔ گاؤں والوں نے خاندان کے ساتھ تمام بات چیت بند کر دی ہے اور اس کے بعد سے ایک بھی گاہک نہیں آیا ہے۔ ان کا دودھ فروخت نہیں ہوا اور بنیادی سماجی تعلقات کو دھچکا لگا ہے۔ دریں اثنا لیڈی کانسٹیبل کی والدہ نے کہا کہ جرمانے کی رقم ان کے وسائل سے کہیں زیادہ ہے۔ ’’ہمیں یومیہ 3 روپے کے سود کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے۔ ہم غریب لوگ ہیں، ہم 20 لاکھ روپے کیسے ادا کر سکتے ہیں؟ ہماری بیٹی شادی شدہ اور خوش ہے۔ ہم نے کیا غلط کیا ہے؟‘‘

مقامی پولیس نے بھی نہیں کی مدد

اطلاعات کے مطابق خاندان نے مدد کے لیے مقامی پولیس سے رابطہ کیا۔ تاہم پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے مبینہ طور پر انھیں منانے کی کوشش کی اور واپس بھیج دیا۔ مسلسل ہراساں کیے جانے کے باوجود ہفتوں تک ان کے خدشات دور نہیں کیے گئے۔ آخرکار 9 جون کو خاتون کانسٹیبل کے والد چرنجی لال یادو نے انصاف کے حصول کے لیے ضلع پولیس کے دفتر میں گڑوٹھا سمادھان دیوس میں شرکت کی۔

اب جا کر درج ہوا ہے مقدمہ

طویل انتظار کے بعد وہ اعلیٰ حکام سے ملنے میں کامیاب ہوئے اور ہاتھ جوڑ کر پوری صورت حال بیان کی۔ شکایت کی سماعت کے بعد ایس ایس پی بی بی جی ٹی ایس مورتی نے واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے اسٹیشن انچارج کو طلب کیا اور مکمل رپورٹ کا حکم دیا۔ اب گاؤں کے سربراہ کے والد سنتوش یادو اور بائیکاٹ کو نافذ کرنے اور دھمکیاں دینے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

19 minutes ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

31 minutes ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

35 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

57 minutes ago

Rahul Gandhi DA Case: آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ: الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف راہل گاندھی پہنچے سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں راہل گاندھی کی عرضی پر 21 ستمبر کو سماعت، عدالت نے پہلے…

1 hour ago