تمل ناڈو کے ضلع کرور میں ہفتے کی شام ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب اداکار اور سیاست داں تامیلا گاویٹری کازگام (ٹی وی کے) پارٹی کے سربراہ جوزف وجے چندراشیکھر المعروف تھلا پتی وجے کی عوامی ریلی کے دوران شدید بھگدڑ مچ گئی۔ اس ہولناک حادثے میں 39 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 8 بچے اور 16 خواتین شامل ہیں، جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
ریاستی وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن نے واقعے کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر سیکریٹریٹ میں ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔ وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 10-10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا اور واقعے کی تحقیقات کے لیے جسٹس ارونا جگدیشن کی سربراہی میں تحقیقی کمیشن قائم کرنے کی ہدایت جاری کی۔
حادثے سے متعلق پیش رفتیں
بھگدڑ شام تقریباً ساڑھے سات بجے اس وقت ہوئی جب وجے اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ دوپہر سے ہی جلسہ گاہ میں ہجوم جمع ہو رہا تھا۔ جب کچھ لوگ بے ہوش ہو کر گرنے لگے تو افراتفری مچ گئی اور بھگدڑ پھیل گئی۔وجے نے صورتحال خراب ہوتے ہی اپنی تقریر روک دی اور بعد میں ایک بیان میں کہا کہ “یہ واقعہ ان کا دل کو توڑ دیاہے”۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ریاست کے گورنر آر این روی اور وزیر اعلیٰ اسٹالن سے رابطہ کیا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ وزارت داخلہ نے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کی ہے۔
پی ایم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی ظاہر کی۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے اس سانحے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔
نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بھی واقعے کو “انتہائی دکھ بھری گھڑی” قرار دیا۔
سیاسی رہنماؤں بشمول بی جے پی صدر جے پی نڈا، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
ریاستی حکومت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے 10-10 لاکھ روپے کے اضافی معاوضے کا اعلان بھی کیا ہے۔
دیگر ریاستوں سے بھی ہمدردی کا اظہار سامنے آیا ہے۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، کیرالہ کے پینرائی وجین، اور جھارکھنڈ کے ہیمنت سورین نے متاثرین کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی۔ کیرالہ کے وزیراعلیٰ نے اسٹالن کو خط لکھ کر امداد کی پیشکش بھی کی۔
معروف فلمی شخصیات کمل ہاسن اور رجنی کانت نے بھی واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
درُوڑ مُنیتر کڑگم (DMK) نے وجے کو ٹھہرایا ذمے دار
حکمران جماعت DMK نے اس افسوسناک حادثے کی ذمہ داری اداکار وجے پر ڈال دی ہے۔ پارٹی کے ترجمان سرونن انادورائی نے کہا کہ،”یہ واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ وہاں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی اور اچانک بھگدڑ کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ اس کے لیے جلسے کے منتظمین ذمہ دار ہیں۔ یہ سب وجے کی سیاسی چال کا نتیجہ ہے۔
واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور ریاستی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…