نئی دہلی: بھارت کے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں ہونے والی ترقی اور تبدیلیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے غربت کے خاتمے، خواتین کو بااختیار بنانے، کسانوں کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کو موجودہ حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ نائب صدر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے مثبت اثرات اب زمینی سطح پر واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔
منگل کو جاری ایک تفصیلی بلاگ میں نائب صدر نے کہا کہ بھارت اب صرف ایک ترقی پذیر ملک نہیں رہا بلکہ دنیا کو نئی سمت دکھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے سوامی وویکانند، تروولور اور مہاکوی سبرامنیم بھارتی کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران حکومت کے جامع ترقیاتی ماڈل کے نتیجے میں تقریباً 25 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 12 کروڑ گھروں تک پائپ لائن کے ذریعے پانی پہنچایا گیا ہے جبکہ صفائی ستھرائی کی مہم “سوچھ بھارت ابھیان” نے کروڑوں افراد کو بہتر اور باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم غریب کلیان اَنّ یوجنا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ملک کے 80 کروڑ سے زائد افراد کو ہر ماہ مفت راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آیوشمان بھارت اسکیم کو انہوں نے ایک “گیم چینجر” قرار دیا جس کے تحت کروڑوں غریب خاندانوں کو مفت علاج کی سہولت ملی اور صحت کے اخراجات کی بڑی فکر سے نجات حاصل ہوئی۔ نائب صدر نے خواتین کے بااختیار ہونے کو بھارت کی ترقی کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “لکھپتی دیدی” اور “نمو ڈرون دیدی” جیسی اسکیموں کے ذریعے تین کروڑ سے زیادہ خواتین معاشی طور پر مضبوط ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنے دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ مختلف ریاستوں میں ان خواتین سے ملتے ہیں تو ان کے چہروں پر خود اعتمادی اور امید صاف نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں میں “ناری شکتی” بھارت کی ترقی میں مزید اہم کردار ادا کرے گی۔
رادھا کرشنن نے بنیادی ڈھانچے اور قومی سلامتی کے شعبے میں بھی حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں تعمیر شدہ چناب برج کو نئے بھارت کی انجینئرنگ صلاحیت کی علامت قرار دیا اور کہا کہ سرحدی اور دور دراز علاقوں میں تیزی سے سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر ملک کی بدلتی تصویر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی اور نکسل ازم کے خلاف حکومت کی “زیرو ٹالرنس” پالیسی کو بھی سراہا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر نائب صدر نے کہا کہ بھارت نے 2047 تک دنیا کی صف اول کی طاقت بننے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے صرف خواب دیکھنا کافی نہیں بلکہ مسلسل محنت اور قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…
جلیل اختر کو 19 جون کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، عدالت نے سرکاری…
ٹرانسپورٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوانین پر عمل یقینی بنانا ضروری ہے، لیکن ضابطے…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو صحافت کی شاندار روایت، بدلتے دور میں اس کے…
13 ستمبر کو بھارت نے پہلا میچ 7 وکٹ سے جیتا، جب کہ دوسرے مقابلے…