قومی

جمعیۃ علماء ہند کی ایک اور بڑی کامیابی، خصوصی سیشن عدالت نے مولانا عبد الرحمن کٹکی کو 10 سال بعد دہشت گردی کے الزام سے کیا بری

نئی دہلی: ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزمات کے تحت گرفتارمشہورعالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ میں آج کٹک کی خصوصی سیشن عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ سیشن عدالت نے گذشتہ سماعت پرفریقین کے وکلاء کی بحث کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے آج ظاہرکیا گیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرتے ہو ئے سیشن عدالت کو مقدمہ کی سماعت 2 ماہ میں مکمل کیئے جانے کی سخت ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت پر استغاثہ نے اس مقدمہ کی تفتیش کرنے والے دوافسران کی گواہی مکمل ہوتے ہوئے گواہان کے بیانات مکمل کئے جانے کا فیصلہ کیا اورسیشن عدالت سے درخواست کی کہ وہ حتمی بحث کی سماعت کرے، جس پرعدالت نے پہلے ملزم کا 313 کا بیان درج کیا اورپھراس کے بعد فریقین کے دکلاء کے دلائل کی سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے سیشن عدالت سے متعلق سپریم کورٹ تک کی ہے۔

ایڈیشنل سالسٹرجنرل کی طرف سے کئی گئی سخت مخالفت

القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت مولانا عبدالرحمن کٹکی پردہلی، جمشید پوراورکٹک میں تین علیحدہ علیحدہ مقدمات قائم کئے گئے تھے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی سینئرایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے کی تھی اورعدالت کوبتایا تھا کہ ملزم کے خلاف گواہی دینے کے لئے پیش کئے گئے گواہان میں سے 20 گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں، اس کے باوجود ملزم کوجیل میں رہنے پرمجبورکیا جارہا ہے۔ ایڈیشنل سالیسٹرجنرل آف انڈیا نے مخالفت کی تھی۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی دورکنی بینچ نے ملزم کوضمانت پررہا کرنے کی بجائے ٹرائل کورٹ کوسخت ہدایت جاری کی تھی، جس کے بعد مقدمہ کی سماعت میں تیزی آئی اورآج عدالت نے فیصلہ صادرکردیا۔ مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت پررہائی کے لئے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے تین مرتبہ ہائی کورٹ اور دومرتبہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی، لیکن ہرمرتبہ سنگین الزامات کوبنیاد بناکرانہیں ضمانت پررہا کرنے سے عدالتوں نے انکارکردیا تھا۔

انصاف کے حصول میں لگ گئے 10 برس: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک بارپھریہ ثابت ہوگیا کہ کسی ثبوت کے بغیردہشت گردی کے الزام میں گرفتارکرکے مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کوتباہ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بھی انصاف کے حصول میں 10 سال لگ گئے۔ مولانا عبد الرحمن کٹکی بے گناہ ثابت ہوئے ہیں ان کے اہل خانہ کے لئے یہ ایک بڑادن ہے، کیونکہ اس کے لئے انہیں 10برس تک انتظارکرناپڑا، یہ 10 برس انہوں نے امید اورناامیدی کی جس اندوہناک اذیت میں گزارے ہوں گے ، ہم اس کا تصوربھی نہیں کرسکتے ، انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء مہاراشٹرا کے لیگل سیل کی ایک اورکامیابی ہے، جب اس کے قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں ان کو رہائی ملی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم برسوں سے یہ مطالبہ بھی کرتے آئے ہیں کہ تفتیشی ایجنسیوں اورپولس کی جواب دہی طے کی جانی چاہئے ، جب تک ایسا نہیں کیاجائے گا، نہ صرف دہشت گردی بلکہ دوسرے قوانین کی آڑمیں بھی بے گناہوں کی زندگیاں اسی طرح تباہ وبربادکی جاتی رہیں گی ، انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ آج جو ملک کے سیاسی حالات ہیں اس میں پولس اورایجنسیوں کے لئے مسلمان آسان ٹارگیٹ ہے۔

متاثرین کو معاوضہ نہیں ملنے پراٹھایا سوال

انہوں یہ بھی کہا کہ ایسے معاملات میں جہاں عوامی جذبات مشتعل ہوتے ہیں متعصب میڈیا ٹرائل کے ذریعہ کسی کو بھی مجرم بنادیا جاتا ہے، پریس کانفرنس پہلے کی جاتی ہے، ثبوت بعد میں تلاش کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی طرح کی جواب دہی کے فقدان کے نتیجہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس بات کی مکمل چھوٹ مل جاتی ہے کہ وہ جس کو چاہے مجرم بنا دے، نہ توان کا کوئی محاسبہ ہوگا اورنہ ہی اس کے لئے ان سے کسی طرح کا کوئی سوال ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس چھوٹ نے انہیں بے لگام کردیا ہے، جس کی مثال یہ معاملہ ہے کہ جب انصاف کے حصول میں 10 برس کا طویل عرصہ لگ گیا اوربے گناہ باعزت بری ہوگیا، مگران لوگوں سے کوئی بازپرس نہیں ہوئی، جنہوں نے اس کی زندگی برباد کی، اس کے لئے متاثرین کو کوئی معاوضہ بھی نہیں ملے گا۔

مولانا ارشد مدنی نے فیصلے کوادھورا انصاف بتایا

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ہماری نظرمیں یہ انصاف ادھورا ہے، جب تک جواب دہی طے نہیں کی جائے گی اوربے گناہوں کی زندگیاں تباہ کرنے والوں کوکوئی سزانہیں دی جائے گی،  اس افسوسناک سلسلہ کا خاتمہ نہیں ہوگا، قانون کی آڑمیں اسی طرح بے گناہوں کی زندگیوں سے کھلواڑہوتا رہے گا اورملک کا میڈیا ایک مخصوص فرقہ کے خلاف پروپیگنڈہ مہم چلاکراسے بدنام کرتارہے گا۔ انہوں نے اس بات پربھی سخت برہمی کا اظہارکیا کہ نام نہاد قومی میڈیا اکثرمتعصب الکٹرانک میڈیا مسلمانوں کی گرفتاری کے وقت طوفان کھڑا کردیتا ہے اوران کے خلاف ٹرائل شروع کردیتا ہے، جب یہی لوگ عدالت سے باعزت بری ہوتے ہیں تومیڈیا کوسانپ سونگھ جاتا ہے یہ جانبدارانہ رویہ صحافت کے پیشہ سے خیانت ہے۔ عدالتی فیصلے پرصدرجمعیۃ علماء مہاراشٹرمولانا حلیم اللہ قاسمی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی سے جاری قانونی جدوجہد کا آج خاتمہ ہوا اورمولانا عبدالرحمن کوانصاف حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے نے مولانا عبدالرحمن کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف کردیا ہے۔ یہ قانونی لڑائی آسان نہیں تھی، لیکن جمعیۃعلماء مقدمہ کی پیروی کرتی رہی۔ اس دوران جمعیۃعلماء کو بارباراعلیٰ عدالتوں کا رخ کرنا پڑا۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

1 hour ago

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

1 hour ago

Amit Shah Tribute: وزیر داخلہ امت شاہ کا خراج عقیدت: تیسرے پاتشاہ شری گرو امرداس جی کے جوتی جوت دیوس پر پیش کیا نمن

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…

2 hours ago

Ishwar Chand Vidyasagar Jayanti: ’ورن پریچے‘ سے ’بیوہ کی دوبارہ شادی‘ تک، ایشور چندر ودیا ساگر کی خدمات کو امت شاہ نے ایسے کیا یاد

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…

2 hours ago