قومی

UK Madrasa Board to be Dissolved: اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ ہوگا ختم، یکم جولائی سے ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی سنبھالے گی ذمہ داریاں

دہرا دون: تعلیمی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے تحت اتراکھنڈ حکومت نے موجودہ اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی جگہ اب اتراکھنڈ ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کام کرے گی۔ منگل کی شب بارہ بجے کے بعد مدرسہ بورڈ کا وجود ختم ہو جائے گا، جبکہ نئی اتھارٹی یکم جولائی سے باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔

یکم جولائی سے نافذ ہوں گے نئے ضوابط

اس اہم فیصلے سے قبل اتراکھنڈ کے خصوصی سکریٹری پراگ مدھوکر دھاکاتے نے بتایا کہ نئے ضوابط یکم جولائی سے نافذ العمل ہو جائیں گے۔ ان کے تحت ریاست کے تمام اقلیتی تعلیمی ادارے ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ سے تمام اقلیتی تعلیمی ادارے نئے نظام کے تحت کام کرنا شروع کر دیں گے، جس سے اقلیتی برادری کے بچوں کو جدید تعلیم کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔

مدرسوں میں لازمی ہوگا جدید نصاب

نئے ضوابط کے مطابق مدرسوں کو روایتی نظامِ تعلیم سے آگے بڑھتے ہوئے جولائی دو 2026 سے اتراکھنڈ بورڈ کا نصاب اپنانا ہوگا۔ اس نصاب میں سائنس، ریاضی، سماجی علوم اور کمپیوٹر سائنس جیسے جدید مضامین کو خصوصی اہمیت دی جائے گی تاکہ طلبہ عصری تعلیم سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی

ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو تعلیمی ادارے نئے رہنما اصولوں پر عمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں بند بھی کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے کا مختلف حلقوں کی جانب سے خیرمقدم

اس فیصلے کا مختلف طبقات، خصوصاً تعلیم یافتہ افراد اور برادری کے دانشوروں نے خیرمقدم کیا ہے۔ اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے نئی انتظامی تبدیلی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مدرسوں کے طلبہ کو دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ کے مساوی مواقع حاصل ہوں گے اور وہ مستقبل کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بن سکیں گے۔

شفافیت، جوابدہی اور اصلاحات کا دعویٰ

شاداب شمس نے کہا، ’’یکم جولائی سے مدرسہ تعلیمی بورڈ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور اس کی تمام ذمہ داریاں اتراکھنڈ ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی سنبھالے گی۔ مدرسہ تعلیمی بورڈ اپنی افادیت کھو چکا تھا اور مسلم بچوں کی تعلیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا تھا۔ اس کا نصاب اتنا پرانا اور پیچیدہ تھا کہ عام آدمی کے لیے اسے سمجھنا بھی آسان نہیں تھا۔ نئی انتظامی تبدیلی کا مقصد مدرسہ تعلیم میں زیادہ شفافیت، جوابدہی اور مؤثر اصلاحات لانا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Sangh UGC Viniyam: سنگھ کے ’غیر متوازن‘ تبصرے سے اقتدار، تنظیم اور سماجی توازن کا امتحان

آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے یو جی سی کے…

5 hours ago

Ind vs NZ Vaibhav Suryavanshi: ’یہ ویبھو پروٹیسٹ کر رہا ہے!’ پلیئنگ الیون سے باہر ہونے پر اکشر پٹیل نے لی چٹکی، ویڈیو وائرل

ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری ٹی 20 میچ سے پہلے نوجوان بلے باز…

6 hours ago

شمیم نکہت اردو فکشن ایوارڈ ڈاکٹر صبیحہ انور اور وقار رضوی صحافت ایوارڈ سنجے شرما کو تفویض، آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی، لکھنؤ میں تقریب منعقد

ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو…

6 hours ago

Successful 5 Years of Social Change: برج کمیونیکیشنز نے یومِ تاسیس منایا، نیپال سے بین الاقوامی توسیع کا آغاز

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برج کمیونیکیشنز سماجی ترقی کے شعبے میں ایک جامع اور…

6 hours ago

Dr Priti Adani to Address The World Symposium: وارانسی میں 2 سے 4 نومبر تک ’ارسطو-کنفیوشس سمپوزیم 2026‘ کا انعقاد، ڈاکٹر پریتی اڈانی کریں گی خطاب

بین الاقوامی اجلاس میں دنیا کی اہم فلسفیانہ اور تہذیبی روایات کے درمیان مکالمے، مصنوعی…

7 hours ago