قومی

Telephonic Conversation between PM Modi and Pezeshkian: وزیراعظم نریندر مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے آج ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی ماہ سے شدید کشیدگی، فوجی جھڑپوں اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال، امن کی بحالی اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

صدر پزشکیان نے علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا

گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے وزیراعظم مودی کو مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خطے میں پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز، جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں اور آئندہ ممکنہ سفارتی عمل کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ ایران نے اپنے مؤقف اور علاقائی حالات کے حوالے سے اپنا جائزہ بھی پیش کیا۔

کشیدگی میں کمی کی کوششوں کا خیرمقدم

وزیراعظم نریندر مودی نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ بات چیت، سفارت کاری اور پرامن حل کے اصولوں پر قائم رہی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی تنازع کا پائیدار حل فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سمندری راستوں کے تحفظ پر زور

وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام متعلقہ ممالک کے باہمی تعاون اور مسلسل سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی اور عالمی تجارت کا بلا رکاوٹ جاری رہنا عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، اس لیے سمندری تجارتی راستوں کا تحفظ اس کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل

حالیہ عرصے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کی سکیورٹی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث وسیع پیمانے پر تصادم کے خدشات پیدا ہوئے، جس کے اثرات عالمی تیل کی منڈی، سمندری تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہوئے۔ اس صورتحال میں متعدد ممالک نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے پر زور دیا۔

بھارت کا متوازن مؤقف

اس تمام بحران کے دوران بھارت نے متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کیا۔ بھارت نے نہ کسی فریق کی حمایت کی اور نہ ہی ایسی زبان استعمال کی جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ نئی دہلی مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا کہ تمام متعلقہ فریق تحمل سے کام لیں، تناؤ کم کریں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔

بھارت کے لیے ایران کی اہمیت

بھارت اور ایران کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور تزویراتی اعتبار سے ہمیشہ اہم رہے ہیں۔ توانائی کا تحفظ، تجارت، رابطہ منصوبے اور علاقائی استحکام دونوں ممالک کے تعاون کے اہم شعبے ہیں۔ بھارت کے لیے ایران صرف توانائی کا شراکت دار ہی نہیں بلکہ وسطی ایشیا اور افغانستان تک رسائی کے لیے بھی ایک اہم ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔

امن اور سفارت کاری پر مشترکہ زور

وزیراعظم نریندر مودی اور صدر مسعود پزشکیان کے درمیان یہ ٹیلیفونک گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس رابطے نے ایک بار پھر بھارت کی اس پالیسی کو اجاگر کیا کہ عالمی اور علاقائی تنازعات کا حل پرامن مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Bihar MLC Election 2026: بہار میں بجا انتخابی بگل، 8 ایم ایل سی نشستوں کے لیے شیڈول جاری، جانیں پی کے کے 5 امیدوار کون ہیں؟

بہار قانون ساز کونسل کی 4 گریجویٹ اور 4 ٹیچر حلقوں سمیت کل 8 نشستوں…

31 minutes ago

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

4 hours ago