قومی

Varanasi Boat Iftar Party: وارانسی: گنگا میں کشتی پر افطار پارٹی کا انعقاد، ایک درجن سے زائد نوجوان گرفتار

اترپردیش کے ضلع وارانسی میں گنگا ندی کے وسط میں کشتی پر افطار پارٹی کا انعقاد مسلم نوجوانوں کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ پولیس نے چکن بریانی کے باقیات گنگا میں پھینکنے کے الزام میں 14 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس پارٹی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور واقعے نے مقامی سطح پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ سوموار کا بتایا جا رہا ہے۔ کشتی پر سوار افراد نے گنگا کے درمیان افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔ اس دوران مہمانوں کو میوہ، پھل اور چکن بریانی پیش کی گئی۔ پارٹی کے دوران وہاں موجود کسی شخص نے یہ ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔

14 افراد گرفتار
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہندو تنظیموں کے افراد میں غصہ پیدا ہو گیا۔ بی جے پی یوتھ مورچہ کے صدر رجت جیسوال نے کوتوالی تھانے میں مقدمہ درج کرایا، جس کے بعد پولیس نے 14 افراد کو گرفتار کر لیا۔

ویڈیو میں کیا دکھایا گیا؟
ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان نے افطار پارٹی کا اہتمام کیا اور روزہ داروں کو گنگا گھاٹ پر مدعو کیا۔ وہاں سے ایک پہلے سے بک شدہ کشتی میں سب لوگ سوار ہوئے اور اسی گھاٹ سے نموں گھاٹ تک گئے۔ کشتی میں سوار افراد نے پہلے نماز پڑھی اور بعد میں روزہ کھولا۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کچھ افراد چکن بریانی کے باقیات کو گنگا میں پھینک رہے ہیں۔ رجت جیسوال کے مطابق، روزہ داروں نے کشتی پر بیٹھ کر چکن بریانی کھائی اور اس کے ہڈیوں کے باقیات گنگا میں ڈال دیے۔

آستھا کے ساتھ کھلواڑ کا الزام
رجت جیسوال نے کہا کہ گنگا ندی ہندو سناتنیوں کے لیے اہم مقام ہے۔ کشتی پر بیٹھ کر چکن بریانی کھانا اور باقیات گنگا میں پھینکنا مذہبی آستھا کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر ہندوؤں کی عقیدت کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مسلم نوجوانوں کے اندر جہادی ذہنیت بڑھ گئی ہے۔ رجت جیسوال نے کشتی کے کپتان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی بھی درخواست کی۔ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس کے درمیان تحقیقات شروع ہو گئی ہیں تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کس نے کشتی میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا اور باقیات گنگا میں کیوں پھینکی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے بعد مقامی ہندو کمیونٹی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی حساس مقامات پر عوامی رویوں میں محتاط رہنا ضروری ہے اور کسی بھی سرگرمی کے دوران ماحول اور عقیدت کا احترام لازمی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Home Secretary Unconditional Apology: کیا مرکزی داخلہ سکریٹری نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی؟ جانیے کیا ہے قانونی ضابطہ

توہینِ عدالت کے نوٹس کے جواب میں حلف نامے میں معافی کے ذکر سے متعلق…

57 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: کھیلو انڈیا اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مختص: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں ایشین گیمز 2026 کے بھارتی…

2 hours ago