قومی

Akhilesh Yadav Attacks UP BJP Government: اسمارٹ میٹر تنازعہ پر سیاست گرم، اکھلیش یادو کا بی جے پی پر شدید حملہ، بجلی بلوں میں بے ضابطگی کا الزام

لکھنؤ: اتر پردیش میں بجلی کے نئے اسمارٹ میٹروں کو لے کر تنازعہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف عوام تیز ریڈنگ اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں، وہیں دوسری جانب یہ معاملہ اب سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اس معاملے پر ریاستی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نشانہ بناتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ضلع ہمیرپور کی خواتین اسمارٹ میٹر کے خلاف احتجاج کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ اسمارٹ میٹر کے نام پر جاری بجلی کی لوٹ کے خلاف عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اب سمجھ آ چکی ہے کہ بلا وجہ زیادہ میٹر ریڈنگ اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں کے پیچھے بدعنوانی کارفرما ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں ٹھیکے دینے سے پہلے ہی میٹر بنانے والی کمپنیوں سے مبینہ طور پر ایڈوانس کمیشن وصول کیا جاتا ہے، جس کی بھرپائی کمپنیاں صارفین سے زیادہ بل وصول کر کے کرتی ہیں۔ اکھلیش یادو کے مطابق ان میٹروں کو جان بوجھ کر تیز چلنے کے لیے سیٹ کیا گیا ہے، جس کے باعث عام شہریوں پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ”بی جے پی کے بجلی میٹر بھی ای وی ایم کی طرح ہیر پھیر کرتے ہیں“، اور الزام عائد کیا کہ جس طرح الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، اسی طرح اب بجلی کے میٹروں پر بھی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ عوام کے غصے کا کرنٹ اتنا زیادہ ہے کہ یہ بی جے پی کے اقتدار کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ریاست کے مختلف علاقوں سے اسمارٹ میٹروں کے حوالے سے شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ نئے میٹر لگنے کے بعد بجلی کے بلوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے عام گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں ہفتہ کے روز ہمیرپور کے لکشمی بائی چوراہے کے قریب کانشی رام کالونی میں بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور اسمارٹ میٹر کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے اسمارٹ میٹروں کو حکام کے سامنے زمین پر پٹخ دیا اور مطالبہ کیا کہ ان میٹروں کی جانچ کی جائے۔ خواتین کا کہنا تھا کہ یہ میٹر غیر معمولی طور پر تیز چل رہے ہیں، جس کے باعث انہیں بھاری بل ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ابھی تک ریاستی حکومت یا بجلی محکمہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ مسئلہ آنے والے دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ اسمارٹ میٹر کا تنازعہ نہ صرف عوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے بلکہ یہ سیاسی میدان میں بھی ایک بڑا موضوع بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Bhutan dedicates sacred stupa to Modi: بھوٹان نے وزیر اعظم مودی کو دیا خصوصی اعزاز، 108 بدھ اسٹوپوں میں سے 76واں اسٹوپا مودی کے نام سے منسوب

بدھ مذہب میں اسٹوپوں کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ انہیں صرف مذہبی یادگار نہیں سمجھا…

12 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: امت شاہ سمیت ان لیڈروں نے انقلابی واسودیو بلونت پھڑکے کی یوم پیدائش پر پیش کیا خراج عقیدت

امت شاہ نے کہ پھڑکے کے لیے ملک کی آزادی اور ہندوستانیوں کے وقار کے…

51 minutes ago

GRAP 2 restrictions in Delhi: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی میں اضافہ، گریپ-2 نافذ،  جانئے کیا ہے گریپ اور اسے کیوں نافذ کیا جاتا ہے؟

گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے۔…

2 hours ago

Democrats Win Majority in the Senate: سینیٹ میں ڈیمو کریٹس کو ملی اکثریت ، ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ملی شرم ناک شکست

ٹرمپ کی جانب سے منتخب کیے گئے ریپبلکن امیدواروں کو ٹیکساس اور ساؤتھ کیرولائنا میں…

2 hours ago