لکھنؤ: راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے کہا ہے کہ سنتوں اور روحانی شخصیات کی رہنمائی سے معاشرے میں مثبت سوچ، اعتماد اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچائی اور روحانیت کے قریب آنے سے انسان کی زندگی میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور سنتوں کے آشیرواد سے معاشرے میں مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے۔ وہ گومتی نگر کے وگیان کھنڈ میں واقع مقامی جاپ استھل اور سیوا مرکز میں منعقد ایک مذہبی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ پروگرام لال مہندر شیو شکتی سیوا سمیتی (اوم نمہ شیوائے آشرم) کی جانب سے سماجی خدمات کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا، جس میں وعظ، آشیرواد اجتماع اور بڑے بھنڈارے کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
ڈاکٹر دنیش شرما نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی سناتن تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق سناتن دھرم صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ جانوروں اور پرندوں کی بھلائی کا بھی پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا مذہب ہے جو ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگوں کی فلاح و بہبود کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی روایت میں ناگ کو بھی دیوتا مان کر دودھ پلانے کی روایت موجود ہے، جو فطرت اور تمام مخلوقات کے احترام کی علامت ہے۔ ان کے مطابق سنتوں کے پاس ایسی روحانی طاقت ہوتی ہے جو سماج کو ذات پات اور فرقہ واریت کے بندھن سے آزاد کر سکتی ہے۔ وہ ایسا معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں انسانیت کو سب سے اوپر رکھا جائے۔
ڈاکٹر شرما نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سے ’’رشی اور کرشی‘‘ یعنی علم و زراعت کا ملک رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی محنت اور پیداوار ہی ملک کی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی سناتن روایات اور تہذیبی اقدار ہی ملک کو مضبوط اور خوشحال بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جہاں سنت ہوتے ہیں وہاں بہار اور خوشحالی بھی ہوتی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے خاندانی نظام میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں خاندانوں کے درمیان رشتے کمزور ہوتے جا رہے ہیں اور تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو بھارتی ثقافت کے مطابق نہیں ہے۔ ان کے مطابق والدین، جنہیں دیوتا کا درجہ دیا جاتا ہے، آج اولڈ ایج ہومز جانے پر مجبور ہیں، جو ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور سال 2047 تک بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے سماجی ہم آہنگی، روحانی اقدار اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اس موقع پر اطلاعاتی کمشنر پی این دویدی، روزنامہ بھاسکر کے بیورو چیف سچن مدگل، بی جے پی ترجمان اونیش تیاگی سمیت کئی سماجی، صحافتی اور سیاسی شخصیات بھی موجود تھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…