گوہاٹی: آسام اسمبلی میں پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل پیش کیے جانے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا۔ مختلف اپوزیشن جماعتوں نے اس مجوزہ قانون پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے صنفی انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون نہ صرف مذہبی آزادیوں پر اثر انداز ہوگا بلکہ خواتین، خاص طور پر بیٹیوں کے وراثتی حقوق کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں لکھا کہ ’’یکساں سول کوڈ حقیقت میں یکساں نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں قبائلی برادریوں کو مکمل طور پر اس کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے، جس سے اس قانون کے مقصد پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
اویسی نے کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 29 کے تحت ہر برادری کو اپنی ثقافت اور روایات کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ صرف قبائلی برادریوں کی خودمختاری کو ہی کیوں محفوظ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسا قانون نافذ کیا جا رہا ہے جسے عوام کی اکثریت قبول نہیں کرتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین ساز اسمبلی نے کبھی لازمی یو سی سی کا تصور پیش نہیں کیا تھا۔ اویسی کے مطابق اس قانون کے ذریعے مختلف مذہبی اور ثقافتی شناختوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر سنجیدہ بحث ضروری ہے۔
وراثت کے معاملے پر اویسی نے کہا کہ اسلام میں کسی بھی وارث کو جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق کوئی شخص ایسی وصیت نہیں لکھ سکتا جس میں پوری جائیداد صرف ایک بیٹے کے نام کر دی جائے یا بیٹی کو اس کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ یو سی سی بل لوگوں کو ایسی وصیت لکھنے کی اجازت دیتا ہے جس کے ذریعے بیٹیوں کو ان کے جائز حصے سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے یہ بل صنفی انصاف سے بہت دور ہے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے دعوے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کے رکن اسمبلی جائے پرکاش داس نے بھی یو سی سی کے معاملے پر پارٹی کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس مسئلے پر مکمل طور پر واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قبائلی برادریوں کو اس قانون سے باہر رکھا جا رہا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قانون اچھا ہے تو پھر ان برادریوں کو اس کے فوائد سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔ کانگریس کے ایک اور رکن اسمبلی رقیب الدین احمد نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔ ان کے مطابق اس قانون میں چند دفعات مخصوص گروہوں کے مفاد میں ہو سکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یو سی سی کے ذریعے ایک خاص برادری کی شناخت اور روایات کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ 3 اکتوبر کو بھوپال میں نئے فوجداری قوانین…
عامر خان اور کرینہ کپور کی آخری آن اسکرین جوڑی 2022 میں ریلیز ہونے والی…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…
تھامسن کے انکشاف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری بنوئے…
وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…
پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…