اترپردیش میں وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل جانچ اور رجسٹریشن کے عمل کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد حکومت اور وقف اداروں نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ ریاست بھر میں اب تک 31 ہزار سے زیادہ وقف جائیدادوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جا چکی ہے، جس کے بعد کئی قدیم قبرستانوں، درگاہوں اور مذہبی اداروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق مرکزی حکومت کے ”امید“ پورٹل پر درج جائیدادوں کی جانچ کے دوران متعدد دستاویزات میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ”امید“ پورٹل پر درج کل 1,18,302 وقف جائیدادوں میں سے اب تک 31,328 جائیدادوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے، جبکہ صرف 53,711 جائیدادوں کو منظوری دی جا سکی ہے۔ اس کے علاوہ 20,546 جائیدادوں کی دستاویزات کی جانچ آخری مرحلے میں ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ہزاروں ایسی جائیدادیں بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن کا تعلق قدیم قبرستانوں، خانقاہوں اور درگاہوں سے بتایا جا رہا ہے۔
مرکزی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے گزشتہ سال 5 جون کو ”امید“ پورٹل شروع کیا گیا تھا تاکہ وقف جائیدادوں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جا سکے اور ان کے انتظام میں شفافیت لائی جا سکے۔ بعد میں وقف ترمیمی قانون 2025 کے تحت اس پورٹل پر رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا۔ یہ قانون رواں سال 5 اپریل سے نافذ العمل ہوا تھا۔ ابتدا میں رجسٹریشن کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی تھی، تاہم اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ اور اتر پردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کی اپیل پر وقف ٹریبونل نے مزید چھ ماہ کی توسیع دے دی تھی، جو آئندہ ماہ 5 جون کو ختم ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق رجسٹریشن منسوخ ہونے کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ سب سے بڑی خامی یہ پائی گئی کہ کئی جائیدادوں کے کھسرہ نمبر وقف بورڈ اور محکمہ ریونیو کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ بعض مقامات پر رقبے میں بڑا فرق پایا گیا، جبکہ کئی جائیدادیں ایک ہی وقت میں دو مختلف وقف بورڈوں میں درج تھیں۔ اس کے علاوہ تکنیکی غلطیاں، ادھورے کاغذات، پرانے ریکارڈ کی خامیاں اور قانونی دستاویزات میں تضادات بھی رجسٹریشن رد ہونے کی بڑی وجہ بنے۔ ریاست کے کئی اضلاع میں بڑی تعداد میں رجسٹریشن منسوخ کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ معاملے جونپور میں سامنے آئے جہاں 1,938 وقف جائیدادوں کی رجسٹریشن ختم کر دی گئی۔ اس کے بعد بارہ بنکی میں 1,521، مظفر نگر میں 1,510، علی گڑھ میں 1,061 اور بستی میں ایک ہزار رجسٹریشن منسوخ کیے گئے۔ اسی طرح اناؤ میں 908، سیتا پور میں 906، ہردوئی میں 891، اعظم گڑھ میں 886 اور لکھنؤ میں 875 وقف جائیدادوں کے رجسٹریشن رد کیے جا چکے ہیں۔
وقف بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ متولیوں کے پاس ابھی بھی 5 جون تک کا وقت موجود ہے اور وہ درست دستاویزات کے ساتھ دوبارہ جائیدادیں اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ اگر مقررہ مدت کے اندر خامیاں دور نہ کی گئیں تو متعلقہ جائیدادیں مستقل طور پر پورٹل سے خارج ہو جائیں گی۔ حکام نے واضح کیا کہ یہ عمل محض قانونی اور تکنیکی جانچ کا حصہ ہے اور اس کا مقصد وقف جائیدادوں کے ریکارڈ کو شفاف اور منظم بنانا ہے۔ دوسری جانب کئی مذہبی اور سماجی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ہزاروں قبرستانوں اور درگاہوں کی رجسٹریشن بحال نہ ہو سکی تو اس سے عوامی مسائل پیدا ہوں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اب جن متولیوں کی جائیدادیں منسوخ ہوئی ہیں، انہیں انفرادی طور پر وقف ٹریبونل سے رجوع کرنا پڑے گا، جو ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل تصور کیا جا رہا ہے۔ ریاست میں اس وقت اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ کے تحت ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد وقف ادارے درج ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…