امریکی فیڈ نے بدھ کے روز ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے فیڈرل فنڈز ریٹ میں 25 بیسِس پوائنٹس (0.25فیصد) کی کمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی شرحِ سود کا دائرہ 3.75–4 فیصد سے گھٹ کر 3.5–3.75 فیصد ہو گیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب امریکہ میں معاشی سرگرمیاں معتدل رفتار سے بڑھ رہی ہیں، بے روزگاری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے اور مجموعی معاشی منظرنامہ غیر یقینی ہے۔ پی ایچ ڈی سی سی آئی کے صدر راجیو جنیجا نے کہا کہ یہ اقدام اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی فیڈ اقتصادی ترقی کو سہارا دینے اور بینکاری نظام میں مناسب لیکویڈیٹی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق شرحِ سود میں کمی سے کمپنیوں اور عام گھرانوں کے لیے قرض لینا سستا ہو جائے گا، جس سے سرمایہ کاری اور کھپت میں اضافہ ہوگا۔ شرحِ سود میں کمی کے ساتھ ہی فیڈ نے ریزرو بیلنس پر دی جانے والی سود کی شرح کو بھی کم کرکے 3.65 فیصد کر دیا ہے، جو اب نئے ہدف کو مستحکم رکھنے میں معاون ہوگی۔ اس کے علاوہ اوپن مارکیٹ آپریشنز بھی جاری رہیں گے تاکہ فیڈرل فنڈز ریٹ مقررہ دائرے میں رہے۔
ضرورت پڑنے پر کم مدتی امریکی ٹریژری سکیورٹیز خریدنے کا بھی عندیہ دیا
فیڈ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 3.75 فیصد کی شرح پر اسٹینڈنگ اوور نائٹ ریپو آپریشن اور 3.5 فیصد کی شرح پر اسٹینڈنگ اوور نائٹ ریورس ریپو آپریشن جاری رکھے گا، جن کی ہد فی کاؤنٹر پارٹی 160 ارب ڈالر روزانہ مقرر کی گئی ہے، تاکہ مالیاتی اداروں کو وافر نقدی میسر رہے۔ امریکی فیڈ نے ضرورت پڑنے پر کم مدتی امریکی ٹریژری سکیورٹیز خریدنے کا بھی عندیہ دیا ہے، جس سے اس کے پاس مناسب ریزرو برقرار رہے گا اور بازار میں استحکام مضبوط ہوگا۔
سرمایہ کاری کے بہاؤ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سی ای او اور سکریٹری جنرل ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ فیڈ کی یہ توسیعی مالیاتی پالیسی عالمی مالیاتی استحکام کے لیے معاون ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق بھارت سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کو اس فیصلے کے مثبت اثرات ملیں گے، خاص طور پر سرمایہ کاری کے بہاؤ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق فیڈ کا یہ فیصلہ محتاط لیکن فعال حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ مہنگائی اب بھی ہدف سے اوپر ہے، مگر فیڈ معاشی سست روی کو مزید گہرا ہونے سے روکنا چاہتا ہے اور ترقی و استحکام کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آئندہ دنوں میں امریکی فیڈ معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھے گا اور ضرورت کے مطابق اپنی مالیاتی پالیسی میں تبدیلی کرے گا۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار بھی اس کے آئندہ فیصلوں پر نگاہ رکھیں گے کیونکہ فیڈ کا ہر قدم عالمی مالیاتی بازاروں پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے…
انڈیا اے (IND A) بمقابلہ پاکستان اے (PAK A): ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز 2026 میں…
آپریشن ٹرائیڈنٹ کے تحت آسام، میزورم اور منی پور میں 38 مقامات پر چھاپے مارے…
جنگ کے میدان میں غیر معمولی حوصلے اور زندہ رہنے کی شدید خواہش کی ایک…
چیک جمہوریہ کی ٹینس کھلاڑی کیٹرینا سنیاکووا نے فائنل میں امریکہ کی ایشلین کروگر کو…
بارک اوباما کی ٹرمپ پر سخت تنقید: امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما نے اوہائیو…