قومی

US DOJ Urges Permanent Dismissal Of Adani Case: امریکی محکمہ انصاف کی عدالت سے درخواست، ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے گوتم اڈانی کے خلاف مقدمہ

نیویارک:امریکی محکمہ انصاف نے بھارتی صنعت کار گوتم اڈانی اور دیگر سات افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ واپس لینے کے اپنے فیصلے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے وفاقی عدالت سے کہا ہے کہ یہ مقدمہ قانونی طور پر کمزور، سفارتی اعتبار سے نقصان دہ اور موجودہ انتظامیہ کی ترجیحات سے متصادم تھا، اس لیے اسے مستقل طور پر ختم کر دیا جانا چاہیے۔

محکمے نے عدالت میں جمع کرائی گئی دس صفحات پر مشتمل سخت لہجے کی درخواست میں کہا کہ یہ مقدمہ ’ایک سال پہلے ہی ختم کر دیا جانا چاہیے تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے کبھی دائر ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘ محکمہ انصاف کے مطابق عدالت کا کردار صرف محدود حد تک اس فیصلے کا جائزہ لینے تک محدود ہے کہ آیا الزامات واپس لیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

عدالت نے مقدمہ ختم کرنے کی وجہ طلب کی

یہ درخواست اس وقت سامنے آئی جب وفاقی جج نکولس گاراؤفس نے محکمہ انصاف سے وضاحت طلب کی کہ وہ فردِ جرم کو مستقل طور پر ختم کرنے کی درخواست کیوں دے رہا ہے۔ جج نے محکمہ کی پہلے دی گئی درخواست کو ’مختصر، غیر تسلی بخش اور مبہم‘ قرار دیا تھا۔

بائیڈن دور میں عائد کیے گئے تھے الزامات

واضح رہے کہ سن 2024 میں سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران گوتم اڈانی اور دیگر افراد پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے بھارتی سرکاری حکام کو تقریباً 25 کروڑ امریکی ڈالر رشوت دینے کی مبینہ سازش کی، سرمایہ کاروں سے حقائق چھپائے اور مزید اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ نے امریکی سرمایہ کاروں سے کم از کم 17 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر جمع کیے تھے۔

مقدمہ واپس لینے پر سوال اٹھانا مناسب نہیں

محکمہ انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر استغاثہ کو ہر مقدمہ واپس لینے کی تفصیلی وجہ عوامی طور پر بیان کرنے پر مجبور کیا گیا تو آئندہ ایسے فیصلے کرنا مشکل ہو جائے گا، اندرونی قانونی مشاورت منظرِ عام پر آ جائے گی اور یہ انتظامیہ کے آئینی اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔

محکمہ کے پرنسپل ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل آر۔ ٹرینٹ میک کاٹر نے کہا کہ مقدمات واپس لینے کی وجوہات پر عدالتی چھان بین سے محکمہ انصاف کے اندر ہونے والی حساس قانونی مشاورت بے نقاب ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل میں ایسے فیصلوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ان ملزمان کو بھی نقصان پہنچے گا جن کے خلاف مقدمہ ختم کیا جانا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

قانونی جائزے کے بعد مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ

میک کاٹر نے بتایا کہ اس مقدمے میں خصوصی رعایت دیتے ہوئے انہوں نے وکلا سے کئی ماہ تک ملاقاتیں کیں، سیکڑوں صفحات پر مشتمل دستاویزات کا جائزہ لیا اور خود قانونی تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق مقدمہ ختم کرنے کا فیصلہ کسی بھی لحاظ سے مشکل نہیں تھا۔

مقدمہ ختم کرنے کی چھ بنیادی وجوہات

محکمہ انصاف نے مقدمہ واپس لینے کی چھ بنیادی وجوہات بھی عدالت کے سامنے پیش کیں۔ ان میں کہا گیا کہ مبینہ تمام سرگرمیاں بنیادی طور پر بھارت میں ہوئیں، بھارتی حکام پہلے ہی ان الزامات کی تحقیقات کر چکے ہیں اور انہیں کوئی قابلِ کارروائی بے ضابطگی نہیں ملی، سرمایہ کاروں کو مالی نقصان نہیں پہنچا، اہم شواہد اور گواہ بیرونِ ملک موجود ہیں، ملزمان کے امریکی عدالت میں پیش ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور استغاثہ کو ثبوت پیش کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

محکمے نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’یہ ایک غیر ملکی معاملہ ہے۔‘ بھارت اپنے معاملات خود بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے درخواست میں کہا گیا کہ اس مقدمے کا تعلق چند بھارتی افراد سے ہے جن پر الزام تھا کہ انہوں نے بھارت میں سرکاری معاہدے حاصل کرنے کے لیے بھارتی حکام کو پیچیدہ رعایتی منصوبوں کے ذریعے رشوت دینے کی کوشش کی۔

محکمہ انصاف نے مزید کہا کہ دنیا کا پولیس اہلکار بننے کی کوشش امریکہ کے لیے سفارتی کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے اور ایسے مقدمات پر وسائل خرچ کرنا دانش مندی نہیں، کیونکہ بھارت اپنے داخلی نظام کو بروکلین یا واشنگٹن کے استغاثہ سے کہیں بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔

سیکیورٹیز فراڈ کے الزامات بھی بے بنیاد قرار

محکمے نے عدالت کو بتایا کہ گوتم اڈانی، ساگر اڈانی اور سیرل کابانیز کے خلاف سیکیورٹیز فراڈ کے الزامات بھی مضبوط قانونی بنیاد نہیں رکھتے، کیونکہ مبینہ سرگرمیاں تقریباً مکمل طور پر امریکہ سے باہر انجام دی گئیں اور متعلقہ مالی لین دین امریکی قانونی دائرۂ اختیار پر پورا نہیں اترتا۔

سرمایہ کاروں کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا

محکمہ انصاف کے مطابق متعلقہ بانڈز یا تو مکمل طور پر واپس ادا کیے جا چکے ہیں یا ان کی ادائیگی معمول کے مطابق جاری ہے، اس لیے سرمایہ کاروں کو کوئی مالی نقصان نہیں پہنچا۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ فردِ جرم میں جن بیانات کو فراڈ قرار دیا گیا ہے، وہ زیادہ تر کمپنیوں کے عمومی تشہیری دعوے تھے، جن پر تجربہ کار ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے انحصار کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔

محکمے نے کہا کہ سکیورٹیز فراڈ کے الزامات کبھی عائد ہی نہیں کیے جانے چاہیے تھے اور اگر کسی کارروائی کی ضرورت بھی تھی تو وہ فوجداری نہیں بلکہ دیوانی نوعیت کی ہو سکتی تھی۔  محکمہ انصاف نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرکاری اہلکاروں کو رشوت دینے سے متعلق امریکی قانون کے تحت عائد الزامات بھی اب محکمہ کی نئی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے۔

جون 2025 میں ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانش کی جاری کردہ ہدایت کے مطابق ایسے مقدمات پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے جن کا تعلق امریکی قومی سلامتی، بین الاقوامی مجرمانہ تنظیموں، سنگین جرائم یا امریکی کمپنیوں کو نقصان پہنچانے سے ہو۔ محکمے کے مطابق موجودہ مقدمے میں نہ کسی مجرمانہ تنظیم کا کردار تھا، نہ امریکی کمپنیوں کو نقصان پہنچا، نہ قومی سلامتی متاثر ہوئی، نہ ہی یہ کوئی غیر معمولی سنگین معاملہ تھا، جبکہ بھارت میں پہلے ہی اس کی تحقیقات کی جا چکی ہیں۔

سرمایہ کاری کے بدلے مقدمہ ختم کرنے کی خبروں کی تردید

میک کاٹر نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اڈانی گروپ کی جانب سے امریکہ میں سرمایہ کاری کے وعدوں کے بدلے مقدمہ ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹیز سے متعلق الزامات واپس لینے کا فیصلہ کسی بھی ممکنہ سرمایہ کاری سے مکمل طور پر الگ تھا اور سرمایہ کاری کا ذکر اس فیصلے پر کسی بھی طرح اثرانداز نہیں ہوا۔

جلد از جلد مقدمہ ختم کرنے کی اپیل

امریکی محکمہ انصاف نے عدالت سے درخواست کی کہ مقدمہ فوری طور پر مستقل بنیادوں پر ختم کیا جائے، کیونکہ مزید عدالتی کارروائی سے صرف ان ملزمان کی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوگا جن کے خلاف خود حکومت بھی اب مقدمہ چلانے کو درست نہیں سمجھتی۔ درخواست کے اختتام پر محکمہ انصاف نے کہا کہ مقدمہ ختم کرنے کی اس کی درخواست میں کوئی غیر معمولی یا نامناسب بات نہیں تھی، کیونکہ یہ الزامات ایک سال پہلے ہی ختم ہو جانے چاہیے تھے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں کبھی دائر ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

52 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

2 hours ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago