قومی

Uproar over Waqf Amendment Act: وقف ایکٹ کے تعلق سے جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، اسپیکر کے خلاف پیش کیا گیا تحریک عدم اعتماد

جموں: جموں و کشمیر اسمبلی میں منگل کے روز اس وقت ہنگامہ مچ گیا جب حزب اختلاف کی جماعتوں نے حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور کیے گئے وقف ترمیمی ایکٹ پر بحث کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا کہ یہ ایکٹ ان کے نقطہ نظر کے خلاف ہے اور اسے سنجیدہ بحث کے لیے ایوان میں لایا جانا چاہیے۔ اس کے بعد، جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ اپوزیشن کے احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی 30 منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پیش کی گئی تحریک التوا اور عدم اعتماد پر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ انہوں نے معاملے کا جائزہ لیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ تحریک اسمبلی قوانین کے مطابق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں لاگو ضابطہ اخلاق کے قاعدہ 58 کے تحت کوئی بھی معاملہ جو عدالت میں زیر التوا ہے اس پر ایوان میں بحث نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وقف ترمیمی ایکٹ کے حوالے سے اس وقت کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ معاملہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے۔

تحریک عدم اعتماد پر راتھر نے کہا کہ اگر کسی نے میرے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے تو یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے، ہم اس کی تحقیقات کریں گے اور ایوان جو بھی فیصلہ کرے گا ہم اس کا احترام کریں گے۔ راتھر نے یہ بھی کہا کہ ان کا کام غیر جانبداری اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر نیشنل کانفرنس، کانگریس یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ایوان کی کارروائی میں کسی ایک فریق کی حمایت کرنا نہیں ہے، بلکہ وہ آئین اور قواعد کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

راتھر نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا بھی جواب دیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ بی جے پی کے حق میں کام کر رہے ہیں۔ راتھر نے کہا کہ میں کسی پارٹی کو سپورٹ نہیں کر رہا، میں قانون اور آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہوں اور ہمیشہ غیر جانبداری سے کام کرتا ہوں، میں نے کبھی خوف کے مارے کوئی کام نہیں کیا اور آئندہ بھی بے خوف ہو کر کام کروں گا۔

راتھر یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی بھی تنازع کو انتہائی سنجیدگی اور آئینی طریقے سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کسی معاملے پر کوئی اعتراض ہے تو وہ قانون کے مطابق حل کرنے کو تیار ہیں۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں اس ہنگامے کے درمیان راتھر نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو کسی پارٹی کے حق میں کام کرتے ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد کسی خاص پارٹی کے لیے کام کرنا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Entertainment News: گزشتہ ایک دہائی میں فن کی جگہ آہستہ آہستہ تفریح لے رہی ہے: ربی شیرگل

ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا…

49 minutes ago

CEC Suspension Plea: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم دینے سے کیا انکار

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن…

1 hour ago

PM Modi welcomed Swiss President: پی ایم مودی اور سوئس صدر گائے پارملن کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں اہم ملاقات

صدر پارملین کا راشٹرپتی بھون کے احاطے میں رسمی استقبال کیا گیا۔ صدر دروپدی مرمو…

1 hour ago

INDIA Alliance:ملک اور یوپی کا مسلمان تمہاری ذاتی جاگیر نہیں، انڈیا اتحاد پر برسے اسدالدین اویسی

اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…

2 hours ago

RBI MPC’s three-day meeting begins: آر بی آئی کی ایم پی سی کی 3 روزہ میٹنگ شروع، 7 اکتوبر کو شرح سود پر ہوگا فیصلہ

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…

3 hours ago