سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کی دہلی واقع رہائش گاہ پر دیر رات پہنچ گئی۔
سنبھل میں گزشتہ سال نومبر مہینے میں ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کو پوچھ گچھ کے لئے نوٹس تعمیل کرانے پہنچی، لیکن وہ اوران کی فیملی کا کوئی نہیں ملا۔ حالانکہ اس کے بعد منگل کی دیر رات اترپردیش پولیس کی ایس آئی ٹی ٹیم رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کو نوٹس سونپنے کے لئے دہلی کے ویسٹرن کورٹ واقع ایم پی ہاسٹل پہنچی۔
اس درمیان، دیرشام ضیاء الرحمٰن برق کے پرسنل اسسٹنٹ عبدالرحمٰن نے بتایا کہ ہمیں رکن پارلیمنٹ کے (دہلی واقع) رہائش گاہ پر نوٹس ملا ہے۔ اترپردیش پولیس نے ہمیں نوٹس دیا ہے۔
جانچ کے دوران تعاون کرنے کی یقین دہانی
حالانکہ اس کے بعد رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے اے این آئی کو بتایا کہ مجھے دفعہ 35 (3) کے تحت دیا گیا نوٹس مل گیا ہے۔ چونکہ میں اس ملک کا شہری ہوں اور رکن پارلیمنٹ بھی ہوں، اس لئے میں نے پولیس کو جانچ کے دوران مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
نوٹس تعمیل کرانے گئی تھی ایس آئی ٹی
اس سے پہلے، سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کرشنا کماربشنوئی نے بتایا کہ رکن پارلیمنٹ کی رہائش گاہ پرایس آئی ٹی نوٹس تعمیل کرانے گئی تھی، لیکن وہ نہیں ملے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب ایس آئی ٹی کی ٹیم ان کو نوٹس تعمیل کرانے دہلی جائے گی۔ پیرکے روزکرشنا کماربشنوئی نے صحافیوں کوبتایا تھا کہ 24 نومبرکی تشدد سے متعلق درج معاملے میں قانونی کارروائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
بیان درج کیا جانا ضروری
ایس پی کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق معاملے میں نامزد ملزم ہیں اوراس کی بنیاد پران کا بیان درج کیا جانا ضروری ہے۔ گزشتہ سال مقامی عدالت کے حکم پرسنبھل کی جامع مسجد میں ایک سروے کے دوران ہوئے احتجاج کے بعد تشدد بھڑک گیا، جس میں چار لوگوں کی موت ہوگئی اورپولیس اہلکاروں سمیت دیگرلوگ زخمی ہوگئے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یہ ایوارڈ محکمہ خواتین کو بااختیار بنانے اور اطفال کی ترقی کی جانب سے مالی…
سی بی ایس ای نے 10ویں اور12ویں بورڈ امتحان 2027 کی ڈیٹ شیٹ جاری کردی…
سپریم کورٹ نے کانگریس کی کیرالہ یونٹ کے عہدیداروں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری…
وزیر داخلہ نے ریاست کے یومِ تاسیس کی تقریب میں 63 منصوبوں کا افتتاح کیا…
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے حکام کوسخت نگرانی برقراررکھنے کی بھی ہدایت…
ادت راج نے کہا کہ جنگِ آزادی میں 61 ہزار مسلمانوں اور 8 ہزار سکھوں…